کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 242
ہے۔ اس زوالِ بعض اقسام حشمت و جاہ کو ایسا سمجھو جیسے کوئی موئے عانہ و ناخنِ دست و پا کو قطع کر کے پھینک دیتا ہے۔ اور جانتا ہے کہ اوساخ بدن کے دور گئے۔ یہ وقت صبر و رضا و تسلیم کا ہے، مولوی مظفر حسین [1] رحمۃ اللہ علیہ گاہ گاہ اس حدیثِ قدسی کو پڑھا کرتے تھے:
((تُرِیْدُ وَ اُرِیْدُ وَمَا یَکُوْنُ اِلَّا مَا تُرِیْدُ فَمَنْ رَضِیَ فَلَہُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السَّخَطُ ۔ او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم)) [2]
’’اللہ آپ کو ان شخصوں میں کرے جو اس آیت کے مصداق ہیں:
((إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ)) [3]
اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے کہ تم مصداق ان دو آیت کے ہو، ایک:
﴿ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ ﴿٦﴾ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ ﴿٧﴾ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ ﴿٨﴾﴾ [4]
دوسری:
﴿ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ﴿١﴾ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ ﴿٢﴾ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ ﴿٣﴾ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ﴿٤﴾﴾ [5]
اب ان شاء اللہ مصداق اس آیت کے ہو گے:
[1] سہ ھ سہ ھ
[2] تو بھی ارادہ کرتا ہے اور میں بھی لیکن ہوتا وہی ہے جو تیرا ارادہ ہو، جو تیرے کام پر راضی ہو جائے اس کے لئے رضا اور جو ناراض ہو جائے اس کے لیے ناراضگی ہے۔
[3] ص: 44
[4] الضحیٰ: 6 تا 8
[5] الم نشرح: 1 تا 4