کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 95
ان کے پاس زیادہ علم ہے۔‘‘ یہ قول اس بات پر واضح دلیل ہے کہ اس کا قائل انتہائی جاہل ہے اور اس سے سلف کے علم و تقویٰ کا ذرا بھی علم نہیں ہے اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ سلف صالحین کے منہج کی طرف رجوع کرے۔ ان کے پاس جو ہدایت اور نور تھا اس کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور اس سے استفادہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کے نقش قدم پر چلنے کا حکم دیا تھا لیکن ان لوگوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور گمراہ ہوگئے۔ (حقیقت یہ ہے کہ سلف صالحین ہی کا مذہب اعلم و احکم اور اسلم ہے۔ از مترجم) منہج خلف کی پیروی کی چند مثالیں: اگر آپ منہج سلف صالحین اور منہج خلف کے درمیان فرق کی مثال جاننا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں ہم آپ کو بتانا چاہیں گے کہ منہج خلف کے پیروکار ایسے ایسے اقوال و افکار اور ایسی ایسی آراء لاتے ہیں جو کتاب و سنت کے سراسر مخالف ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال، صحابہ کرام اور تابعین عظام کے منہج کے بالکل خلاف ہوتی ہیں۔[1] احادیث آحاد اور احادیث متواتر کے درمیان تفرق کرنا: مذکورہ بالا دعویٰ کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ یہ لوگ یعنی خلف کے پیروکار حدیث آحاد اور حدیث متواتر کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا احادیث نبویہ میں اس طرح یہ تفریق کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ لوگ منہج سلف سے تجاوز کرگئے ہیں، انہوں نے سلف صالحین کی کماحقہ اتباع نہیں کی بلکہ اس سے خروج کرگئے ہیں اس لیے کہ سلف صالحین حدیث متواتراور حدیث آحاد کا نام تک نہیں جانتے تھے۔[2] وہ تو صرف اتنا جانتے تھے کہ یہ [1] ۔/ان کے بعد میں یعنی تابعین پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہیں یعنی تبع تابعین جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت ہے اور وہ لوگ خلف سے ہر فضیلت میں اولیٰ وافضل ہیں: مثلاً علم میں، عمل میں، ایمان میں، عقل و فہم میں، دین میں، بیان میں اور عبادت میں اور ہر مشکل امر کی تشریح و توضیح میں وہ سب سے اولیٰ و افضل ہیں اس کا انکار وہی شخص کرے گا جو ہٹ دھرم ہوگا اور جس کو اللہ نے گمراہ کردیا ہوگا۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ:4/157) [2] ۔ احادیث نبویہ کو آحاد اور متواتر میں تقسیم کرنا یہ متکلمین کا عمل ہے اور نفس پرست علماء کی ایجاد ہے تاکہ اس تقسیم کے ذریعے احادیث آحاد اور احادیث صفات کا ردّ کرسکیں۔ جیسا کہ ابوالقاسم اصبہانی نے ’’الحجۃ فی/