کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 55
ساتھ ثابت ہے بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دین میں کوئی بدعت ایجاد کرے چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی اور معمولی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ کردار و سلوک میں ہو یا عبادات واعتقادات میں اور ہم اس روایت کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں قرآن کریم کی اس آیت پر اعتماد کرتے ہوئے کہ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے دین یعنی ’’اسلام کو تمام کر کے اس نے ہم پر اپنی نعمت تمام کر دی۔‘‘[1] سو آج ہمارے متعلق کیا خیال ہے؟ ہم تو اسلام سے کوسوں دور جا چکے ہیں نہ صرف ان امور میں کہ جنہیں ہم ’’سنت‘‘ کہتے ہیں جو کہ بدعت کی ضد ہے بلکہ ہم تو اسلام سے مکمل طور پر دور ہو چکے یعنی ہم اسلام سے صرف ان امور میں دور نہیں ہوئے کہ جنہیں بعض لوگ ثانوی حیثیت کے یا غیر ضروری اعمال شمار کرتے ہیں بلکہ ہم تو اس اسلام سے ہی دور ہوگئے جو دین اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پسند فرمایا تھا۔ ہم نہ صرف اپنے قانونی فیصلوں اور افکار میں گمراہ ہوئے بلکہ اپنے عقائد تک میں گمراہی کا شکار ہیں۔ اگر ہم واقعی اس علاج جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تجویز فرمایا کہ نافذ کرنے میں مخلص ہیں یعنی اپنے دین کی طرف رجوع کرنے میں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا طریقہ ہے کہ جس سے ہم دین کو سمجھیں اور اس کا فہم حاصل کریں؟ فہم سلف یا فہم خلف: اس دین کے فہم کے دو طریقے ہیں جو کہ ان علماء میں معروف ہیں جو ماضی اور حال کے علماء میں پائے جانے والے اختلاف کا شعور رکھتے ہیں۔ یہاں دو مکتبہ فکر ہیں: ایک تو سلف کی طرف منسوب ہے اور دوسرا خلف کی طرف۔ جو لوگ خلف کی طرف منسوب ہیں وہ اس بات کے معترف ہیں کہ سلف کا راستہ محفوظ ترین ہے مگر اس کے باوجود ان کا یہ دعویٰ ہے کہ خلف کا راستہ علم و فہم کے اعتبار سے سلف سے بہتر ہے۔ تو آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا ہمیں [1] ۔ الاعتصام: 35/2۔