کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 52
بن کر رہ گیا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان امراض کی نشاندہی وتشخیص کے ساتھ اس کا علاج بھی تجویز فرمایا جیسا کہ حدیث کی ابتداء میں ان امراض کا ذکر ہے جو امت مسلمہ کو لاحق ہوں گے اور اس کے آخری حصہ میں ان کا علاج بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح ان سے گلو خلاصی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان مہلک امراض سے سبیل نجات: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تم پر سے اس ذلت کو رفع نہیں کرے گا یہاں تک کہ تم اپنے دین کی جانب رجوع کرو۔‘‘ یہی وہ واحد حل ہے مسلم امہ کے لیے اگر وہ اپنے کھویا ہوا وقار، غلبہ، عزت اور شان وشوکت کی بحالی چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا پر اسی طرح غلبہ وتسلط عطا کرے جس طرح کہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’اس امت کو بشارتیں دے دو کہ اللہ تعالیٰ انہیں عروج بخشے گا اور انہیں دنیا میں غلبہ عطا فرمائے گا۔ پس جو شخص بھی حصول آخرت والا عمل دنیاوی مقاصد ومفادات کے لیے سر انجام دے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘[1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ’’یہاں تک کے وہ اپنے دین کی جانب رجوع کریں‘‘ مجھے اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ میں آپ کے سامنے کیے گئے سوال کے آخری حصہ کو متعارف کرواؤں۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ پر جو کچھ بیت رہی ہے اور جس ذلت وپستی کا وہ شکار ہے کہ ماضی میں جس کی مثال نہیں ملتی اس سے نجات کی کیا سبیل ہے؟ تو اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ وَ اِذَآ اَرَادَ اللّٰہُ [1] ۔ البیہقی، وقال حاکم صحیح، وصححہ الالبانی فی احکام الجنائز: 52 وصحیح الجامع: 2825۔