کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 41
اس پر دست مبارک رکھ کر فرمایا ’’یہ اللہ کی راہ ہے‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سیدھی خط کے اردگرد مزید خطوط کھینچے اور فرمایا: ’’یہ وہ مختلف راہیں ہیں جن میں سے ہر ایک کے سر پر ایک شیطان بیٹھا لوگوں کو اپنی طرف دعوت دے رہا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ…}[1] پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں واضح کر دیا کہ صراط مستقیم ایک راہ ہے بہت سی راہیں نہیں جیسا کہ چند صوفیاء کہتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے اتنے ہی راستے میں جتنی تمام مخلوقات کی سانس لینے کی مقدار ہے ’’کم از کم یہ ان کا ایک قدیم مقولہ ہے مگر آج واقعتاً اتنی راہیں گروہوں اور جماعتوں کی صورت میں نمودار ہوگئی ہیں، اور ہر ایک اس چیز پر خوش اور مگن ہے، جو اس کے پاس ہے جبکہ یہ تمام مسلمان اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے بخوبی آگاہ ہیں: {وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ،} (الروم: 31۔ 32) ’’اور ان مشرکوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہوگئے، ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے۔‘‘ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی بخوبی واقف ہیں: ’’یہودیوں نے تفرقہ کیا حتیٰ کہ وہ اکہتر (71) فرقے بن گئے اور نصاری تفرقے کے سبب بہتر(72) فرقے بن گئے اور میری یہ امت تہتر(73) فرقوں میں بٹ جائے گی اور وہ تمام کے تمام فرقے آگ میں جائیں گے۔ سوائے ایک [1] ۔ احمد: 1/ 435، 436، نسائی: 184، الدارمی: 1/ 67۔ 68، قال الالبانی صحیح، دیکھئے شرح عقیدۃ طحاویہ: 810۔