کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 31
ہوا ہے حالانکہ یاد رکھیں کہ آج کے عربوں کا معاملہ عربی زبان سے دوری کے سبب ان عجمیوں سے بالکل برعکس ہوگیا ہے جو عربی سیکھتے ہیں، پس اس بات نے انہیں ان کے رب کی کتاب اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے دور کر دیا۔ بالفرض ہم عربوں نے صحیح طور پر اسلام کا فہم حاصل اگر کر بھی لیا ہے تب بھی ہم پر واجب نہیں کہ ہم سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کر دیں اور لوگوں کو سیاسی تحریکوں سے وابستہ کریں اور انہیں جس چیز میں مشغول ہونا چاہیے یعنی اسلام کے عقیدے، عبادت، معاملات اور سلوک کا فہم حاصل کرنا سے ہٹا کر سیاست میں مشغول رکھیں۔ مجھے نہیں یقین کے کہیں ایسے لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہوں جنہوں نے اسلام کا صحیح فہم یعنی عقیدے، عبادت اور سلوک میں حاصل کیا اور ہو اسی پر تربیت پائی ہو۔ تبدیلی یا انقلاب کی بنیاد منہج تصفیہ وتربیہ اسی وجہ سے ہم ہمیشہ یہ کہتے چلے آئے ہیں اور انہی دو اساسی نقطوں پر جو تبدیلی وانقلاب کا قاعدہ ہیں پر ہمیشہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور وہ دو نقاط تصفیہ (دین کو غلط باتوں سے پاک کرنا) اور تربیہ (اس پاک شدہ دین پر لوگوں کی تربیت کرنا) ہیں۔ ان دونوں امور کو یکجا کرنا ضروری ہے تصفیہ اور تربیہ کیونکہ اگر کسی ملک میں کسی طرح کا تصفیہ کا عمل ہوا جو کہ عقیدے میں ہے تو یہ اپنی حد تک واقعی ایک بہت بڑا اور عظیم کارنامہ ہے جو اتنے بڑے اسلامی معاشرے کے ایک حصہ میں رونما ہوا، لیکن جہاں تک عبادت کا معاملہ ہے تو اسے بھی مذہبی تنگ نظری سے پاک کر کے سنت صحیحہ کی جانب رجوع کا عمل ہونا چاہیے۔ ایسے بڑے جید علمائے کرام ہو سکتا ہے موجود ہوں جو اسلام کا ہر زوایے سے صحیح فہم رکھتے ہوں مگر میں یہ یقین نہیں رکھتا کہ ایک فرد یا دو، تین یا دس بیس افراد اس تصیفے کے واجب کو ادا کر پائیں۔ تصفیہ کرنا (پاک کرنا) اسلام کو ہر اس چیز سے جو اس میں در آئی ہے خواہ وہ عقیدے میں ہو یا عبادت وسلوک میں۔ محض کچھ افراد کی یہ استطاعت نہیں کہ وہ اسلام سے جڑی ہر غلط چیز کا تصفیہ کر کے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی اس پر صحیح وسلیم تربیت کر کے سرفراز ہو سکیں۔ اسی لیے تصفیہ و تربیہ کا عمل آج مفقود ہے۔