کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 251
امام زہری تابعین کے کلام کو لکھتے تھے۔ صالح بن کیسان اس پر ان کی مخالفت کرتے تھے، پھر اس کے چھوڑنے پر کافی شرمندہ ہوئے۔[1] یہی طریقہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا تھا۔ ابن مبارک کہتے ہیں کہ میں نے ابوحنیفہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ حدیث سر آنکھوں پر، صحابہ کرام کے اقوال میں اختیار کریں گے، البتہ تابعین کے اقوال میں مزاحمت کریں گے۔[2] امام مالک نے کہا: میں نے مؤطا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ، صحابہ و تابعین کے اقوال و آراء کو ذکر کیا ہے کہیں کہیں اپنی رائے کو بھی ذکر کردیا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے کچھ نہیں ذکر کیا۔[3] امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ علم کے کچھ طبقات ہیں: 1: علم کتاب و سنت کا نام ہے شرط یہ ہے کہ سنت ثابت ہو۔ 2: اجماع اس شرط کے ساتھ کہ کتاب و سنت پر وہ مسئلہ نہ ہو تو اجماع کو دیکھیں گے۔ 3: کسی صحابی کا قول ہو اور اس قول کی کسی دوسرے صحابی نے مخالفت نہ کی ہو۔ 4: صحابہ کرام کے اختلافات۔ 5: قیاس۔ کتاب و سنت کی موجودگی میں کسی دوسرے کی طرف نظر نہیں کیا جائے گا بلکہ علم کو اعلیٰ سے حاصل کیا جائے گا۔[4] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: اگر کسی مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود ہے تو اس کی موجودگی میں کسی دوسرے قول کو نہیں لیا جائے گا، خواہ صحابی ہو یا تابعی۔اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختلف اقوال ہیں تو انھیں میں کسی قول کو [1] ۔ تقیید العلم للخطیب البغدادی ص 106، 107، جامع بیان العلم وفضلہ 1/76،77۔ [2] ۔ اخبار ابی حنیفہ للصیمری ص 10، ایقاظ ہہم اولی الأبصار ص 70 [3] ۔ ترتیب لمدارک ا/193 [4] ۔ المدخل الی السنن الکبری ص 110۔