کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 248
کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے اور یہی طریقہ کار ہر قسم کے اختلافات سے نجات پانے کا بہترین ذریعہ اور راستہ ہے۔ عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ ایک دن نماز صبح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو نصیحت کی وہ نصیحت ایسی دردناک تھی کہ آنکھیں اشک بار ہوگئیں، دل کانپ اٹھے، اتنے میں ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ آخری نصیحت تو نہیں ہے؟ آپ ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی اور سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا اور تم نئے نئے امور سے بچتے رہو۔کیونکہ یہ گمراہی ہے، لہٰذا تم میں سے جو اس کو پالے وہ میری سنت کو لازم پکڑے اور خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑے اور اس کو دانتوں سے مضبوطی سے پکڑے رہے۔[1] ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تم کو روشنی میں چھوڑا ہے جس کی رات دن کے مانند ہے اس سے نہیں بھٹکے گا مگر وہ شخص جو ہلاک ہونا چاہتا ہے۔ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا، لہٰذا تم میری سنت کو اور خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور خوب مضبوطی سے پکڑے رہو اور اطاعت کو لازم پکڑو اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت جوامع الکلم میں سے ہے۔ یہ دین کا اصل ہے اور یاد رکھئے کہ انسانی زندگی میں بہت سے تعلقات ہوتے ہیں۔ کبھی اس کا تعلق اس کے رب سے ہوتا ہے، کبھی سماج سے اور کبھی نفس سے، مذکورہ حدیث میں ان تمام تعلقات کا ذکر ہے۔ مثلاً: ((اوصیکم بتقوی اللّٰہ)) میں رب کے ساتھ تعلق کا ذکر ہے اور ((والسمع والطاعۃ وإن عبد حبشی)) میں سماج کے ساتھ تعلق کا ذکر ہے اور تقویٰ اور تمسک بالسنہ میں نفس کے ساتھ تعلق کا ذکر ہے۔ حدیث میں ایک ایسے امر کے بارے میں خبر ہے جو [1] ۔ ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الأخذ بالسنۃ الخ، ابوداؤد، کتاب السنۃ، باب ما جاء فی لزوم السنۃ۔