کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 247
’’اور قسم ہے زمانے کی، بے شک تمام انسان خسارے میں ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کیا اور انھوں نے حق کی وصیت کی اور صبر کی تلقین کی۔‘‘ خلاصۂ کلام یہ کہ اہل حدیث کے یہاں ثابت قدمی اور استحکام زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ ثابت قدمی اہل کلام اور اہل فلسفہ کے یہاں بالکل نہیں ہے۔ اہل فلسفہ اہل کلام سے زیادہ پریشان حال رہتے ہیں، اس لیے کہ اہل کلام کے پاس کبھی وہ حق ہوتا ہے جو اہل فلسفہ کے یہاں نہیں ہوتا، اسی لیے آپ حسن بصری کو دیکھیں گے کہ وہ ابن سیناء وغیرہ سے زیادہ ثابت قدم ہیں۔ اسی طرح آپ اہل فلسفہ اور اہل کلام کے یہاں بھی خوب اختلافات پائیں گے۔ اس کے باوجود ان دونوں میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جو کہتا ہے وہی حق ہے۔ دوسروں کی بہ نسبت اہل حدیث کے یہاں زیادہ اتفاق و اتحاد پایا جاتا ہے اور جو جماعت بھی ان کے قریب ہوگی اس کے یہاں بھی اسی قدر اتفاق ہوگا اسی طرح آپ دیکھیں گے کہ ان کے یہاں اتنے اقوال و آراء ہوتے ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[1] وہ اختلاف جو مذموم ہے اور کمزوری کا سبب بھی ہے وہ اہل حدیث کے پاس نہیں ہوتا ہے اور یاد رکھئے! اختلافات و انتشار سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت و فرمانبرداری شروع کردے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَ اصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ} (الانفال:46) ’’تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں تنازع مت کرو ورنہ کمزور ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ لہٰذا سنت کی صحیح اتباع اور سلف صالح کے فہم کے مطابق اس کا صحیح فہم ہی اللہ اور اس [1] ۔ نقض المنطق ص 42،44۔