کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 244
اس کے برعکس اہل حدیث میں جو باہمی یکجہتی اور رواداری، باہمی اتفاق و اتحاد پایا جاتا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے یہاں دین کا مرجع کتاب و سنت ہے۔ اسی کو انھوں نے بنیاد بنایا ہے۔ اسی لیے ان کے اندر اتفاق و اتحاد پایا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف اہل بدعت نے دین معقولات اور آراء و نظریات سے لیا ہے۔ اسی لیے ان کے اندر افتراق و انتشار اور اختلاف پایاجاتا ہے۔ ثقہ راویوں کی روایت اور نقل میں اختلاف بہت کم ہوتا ہے اور اگر کبھی کسی لفظ یا کسی کلمہ میں اختلاف ہوبھی گیا تو اس سے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ لیکن عقلی دلائل میں بہت کم یکسانیت ہوتی ہے بلکہ ہر ایک کی عقلی دلیل دوسرے کی عقلی دلیل سے مختلف ہوتی ہے یہ بہت واضح حقیقت ہے۔ احکام و مسائل میں صحابہ کرام میں بھی اختلاف ہوگیا تھا اور یہ اختلاف اس وجہ سے ہوا تھا کہ انھیں کتاب و سنت میں کوئی واضح نص نہیں ملی تھی مگر یہ اختلاف ان کے افتراق و انتشار کا سبب ہرگز نہیں بنا وہ ہمیشہ باہم متفق و متحد رہے۔ لیکن بعد میں جب نفس پرستی کا ماحول پیدا ہو گیاجو انھیں جہنم میں لے جانے کا سبب بھی بنا۔ وہیں سے عداوت و دشمنی کی فضا ہموار ہوئی اور وہیں سے لوگ ٹولیوں اور گروپوں میں بٹنا شروع ہوگئے۔ بھائی چارہ کا ماحول ختم ہونے لگا۔ الفت و محبت کی زنجیر ٹوٹنے لگی۔ اس سے اتنا ضرور معلوم ہوا کہ اختلاف و انتشار کا اصل سبب بعد کے نئے نئے مسائل بنے۔ جن مسائل کو شیطان خوبصورت بنا کر ان کے پیش کیا اور ان کے اولیاء نے ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرلیا نتیجہ یہ نکلا کہ آپس میں ٹولیوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانے لگے۔ کتنے ایسے نئے نئے مسائل پیدا ہوئے جن کا بظاہر کتاب و سنت میں کوئی حل نہیں مل سکا۔ امت میں اس میں غور و فکر کیا۔ رائیں مختلف ہوگئیں لیکن یہ اختلاف رائے ان کے باہمی اختلاف کا سبب نہیں بن سکا۔ اسے اسلامی مسئلہ کا نام دیا جاسکتا ہے کیونکہ سب کی نیتیں خالص تھیں۔ حق و صواب تک پہنچنے کے لیے سب کوششیں کر رہے تھے۔ ایسے موقع پر