کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 233
اور فرمایا: {وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ،} (الانعام:153) ’’بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے۔ لہٰذا تم لوگ اسی پر چلو اور دوسرے مختلف راستوں پر مت چلو ورنہ تم کو اس کے راستے سے الگ کردیں گے، اسی کا اس نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم لوگ ڈرو۔‘‘[1] ابومظفر سمعانی رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور بدعت سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے اور اہل سنت کی پہچان یہ ہے کہ وہ سلف صالحین کی پیروی کرتے ہیں اور ہر قسم کی بدعت و ضلالت سے باز رہتے ہیں۔[2] علامہ اصبہانی رحمہ اللہ نے کہا: آدمی کو چاہیے کہ وہ بدعات و خرافات سے بچے، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کی تصدیق کا نام ہے اور سنت کے بارے میں ’’کیوں‘‘ اور ’’کیسے چھوڑ دے‘‘ دین میں بحث و مباحثہ بدعت ہے، اس سے دلوں میں شک پیدا ہوتا ہے اور حق و صواب کی پہچان کے مانع ہوتاہے۔ علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اتباع کا نام ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی پیروی کی جائے، اگرچہ علم میں کم ہی کیوں نہ ہوں اور جو شخص صحابہ اور تابعین کی مخالفت کرتا ہے وہ گمراہ ہے اگرچہ اس کے پاس بہت زیادہ علم ہی کیوں نہ ہو۔[3] انھوں نے یہ بھی کہا: ’’لوگوں کے لیے دینی امور کو واضح کردیا ہے، لہٰذا ہمارے اوپر صرف اتباع باقی رہ گیا ہے کیونکہ دین اللہ کی جانب سے آیا ہے۔ لوگوں کے عقول و آراء پر [1] ۔ اصول السنۃ لابن ابی زمنین مع تخریجہ ریاض الجنۃ ص 35۔ [2] ۔ الإنتصار لأہل الحدیث للسمعانی بواسطۃ صون المنطق والکلام ص 158۔ [3] ۔ الحجۃ فی بیان المحجۃ 2/437، 438۔