کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 156
دو رنگی چھوڑ کر اک رنگ ہو جا سراسر سنگ ہو یا موم ہو جا اس قسم کے لوگ کبھی بھی عوام کے سامنے اسلام کی صحیح تعبیر نہیں پیش کرسکتے اور نہ ہی وہ اسلام پیش کرسکتے جو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں ثابت ہے اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ دعوت امت کو ایک ہونے کی دعوت دیتی ہے۔ جماعت بندی اور گروپ بندی سے روکتی ہے۔ کیونکہ گروپ بندی اسلام کا شعار نہیں ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ اس دعوت کی وجہ سے ایک دوسرے میں جدائی پیدا نہ ہوجائے باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے جدا ہوجائے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا تھا۔ جدائی اس طرح ہوئی تھی کہ جب ایک شخص نے صحیح دعوت قبول کرلیا اور دوسرے نے نہیں قبول کیا تو دونوں میں اختلاف واقع ہونا فطری امر ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہم بھی منہج سلف کی دعوت کو ترک کردیں۔ جو دعوت سلف صالحین کے فہم کے مطابق کتاب و سنت کی دعوت پر مبنی ہے۔ ان کے خیال میں اس طرف دعوت دینا لوگوں کے اندر اختلاف پیدا کرنا ہے اور ان کی اجتماعیت کو ختم کرنا ہے گویا کہ انھیں آزادی خیال، دین سے خروج اور ضلالت و گمراہی کی طرف دعوت دینا ہے۔ العباد باللّٰہ تعالی۔ یہاں یہ بات بھی واضح کردینا چاہتے ہیں جو لوگ محض سلفی دعوت کی طرف مائل ہیں یا بظاہر اپنے آپ کو سلفی کہتے ہیں ان کے درمیان اور حقیقی سلفی دعوت کے درمیان کیا فرق ہے؟ اگر آپ غور کریں تو دیکھیں گے کہ ایک امر میں ہم دونوں متفق ہیں لیکن طریقے اور وسائل میں یقینا ہم دونوں کے درمیان اختلاف ہے۔ ہم دونوں اس امر میں متفق ہیں کہ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نئے سرے سے اسلامی زندگی کا آغاز کریں۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئے سرے سے اسلامی زندگی کا آغاز کون کرے گا؟ کیا کسی علاقے کے مخصوص افراد یا پوری امت اسلامیہ؟ ظاہر بات ہے کہ پوری اُمت اسلامیہ مل کر نئی زندگی کا آغاز کریں جس میں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں برابر شامل ہوں۔ عالم اور جاہل دونوں برابر شامل