کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 150
نازل ہوگی جس کا نام ان لوگوں نے ’’الہام‘‘ رکھا ہے ان کے پاس ایک عبارت ہے جس کو متقدمین و متاخرین صوفیاء بار بار کہتے رہتے ہیں وہ عبارت یہ ہے: ’’حدثنی قلبی عن ربی‘‘ میرے دل نے میرے رب سے بیان کیا جبکہ ائمہ حدیث کہتے ہیں: ’’حدثنی فلان عن فلان‘‘ یعنی فلاں نے فلاں سے بیان کرکے مجھ سے بیان کیا اور ائمہ فقہ کہتے ہیں: ((قال فلان فی کتابہ عن فلان)) یعنی فلاں نے فلاں سے بیان کرکے اپنی کتاب میں کہا ہے یہ طریقۂ کار صوفیاء نہیں اختیار کرتے وہ تو بس اسی کا ورد کرتے ہیں: ’’حدثنی قلبی عن ربی‘‘ یہ بحث بھی طویل ہے اور اچھا خاصا وقت بھی چاہتی ہے، لیکن میں اس وقت اس بحث میں داخل ہونا نہیں چاہتا۔ اس وقت ہمارا موضوع ائمہ کرام کا ادب و احترام کے متعلق ہے لہٰذا ہم اسی کی وضاحت کریں گے۔ واضح رہے کہ ہم لوگ ائمہ کرام ـ رحمہم اللہ کو واسطہ اور ذریعہ مانتے ہیں کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم ہم تک پہنچاتے ہیں اور انہیں کے ذریعہ کتاب و سنت کی تعلیمات ہم تک پہنچی ہیں اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ محض ان کی اتباع یا پیروی ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد وحید یہ ہے کہ ہم اس راستے کو پہچانیں جس پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قائم تھے اور جس راستے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ پر اپنی کتاب قرآن مجید میں نازل فرمایا ہے اور جس راستے کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنتوں میں واضح کیا ہے یعنی کتاب و سنت کی روشنی میں صراط مستقیم کو جاننا اور پہچاننا ہمارا مقصد ہے۔ اب کتاب و سنت کی دعوت اور ان کی واضح تعلیمات ہم تک انہیں علماء کرام کے ذریعہ پہنچی ہیں اس لیے ہم ان کا ادب و احترام کرتے ہیں ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں لیکن ان ائمہ کرام اور علماء عظام کے ادب و احترام کرنے میں ہمارے اور جمہور لوگوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ ہم جس بنیاد پر ان کا ادب و احترام کرتے ہیں اس کو مذکورہ بالا سطور میں ہم نے واضح کردیا ہے۔ لیکن جمہور نے اس حقیقت کو بالکل بدل ہی دیا ہے انہوں نے ان علمائے کرام کی تقلید اور ان کی اتباع کو ہی اصل مقصد بنالیا ہے۔ اس کی دلیل