کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 148
ان کا غلام تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیایہ تمہارا لڑکا ہے؟ اس نے جواب میں کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو تمہارا قصور اس کے اوپر ہے اور نہ اس کا قصور تمہارے اوپر ہے[1] یہ حدیث مذکورہ بالا آیت کی واضح تفسیر ہے۔ لہٰذا اس طرح کے کلمات اگر کسی ایسے شخص کی زبان سے نکل گئے ہیں جو اپنے آپ کو سلفی دعوت کی طرف منسوب کرتا ہے تو یہ سلفی دعوت کی غلطی نہیں ہے اور نہ ہی یہ دعوت اس کی ذمہ دار ہے بلکہ وہ شخص خود اس کا ذمہ دار ہوگا۔ جیسا کہ مذکورہ بالا آیت اور حدیث اس پر دلالت کرتی ہے ہم بے حد افسوس و حسرت کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس قسم کے کلمات بعض متحمس سلفی کی جانب سے صادر ہوئے ہیں جن کی خاص طبیعت اور عادت ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کی عقل ان کی زبان کے پیچھے ہوتی ہے اور ان کی زبان ان کی عقل سے پہلے چلنے لگتی ہے۔ ایسے لوگ بغیر سوچے سمجھے جو چاہتے ہیں کہنے لگتے ہیں۔ لہٰذا اس قسم کے لوگوں کی وجہ سے ہم کسی دعوت کو مطعون نہیں کرسکتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جن سے غلطیاں سرزد ہوجاتی تھیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں تنبیہ کرتے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر جماعت اور ہر گروپ میں کچھ ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ سلفی دعوت ہی ایسی دعوت ہے جو کسی کے حقوق کو ہضم نہیں کرتی ہے چہ جائیکہ علماء کرام کے حقوق بلکہ ہر ایک کواس کا جائز حق دیتی ہے اور وہ کسی کا حق ہضم ہی کیسے کرسکتی ہے جبکہ قرآن کھلے لفظوں میں کہتا ہے: {وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی} (المائدہ:8) ’’اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرسکو، عدل کرو کیونکہ یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘ [1] ۔ السلسلۃ الصحیحۃ (249)۔