کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 122
صحیح حدیث کے مقام میں رکھا ہے مگر بعد میں یہ ناخلف آئے اور اس کو رد کردیا اور کہا کہ ’’تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اس طرح سوال کرو کہ ’’اللہ‘‘ کہاں ہے؟ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ اولاً تو یہ حدیث آحاد ہے پھر بحث و مباحثہ شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ یہ سوال کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاریہ کے قول کا اقرار کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے۔ اس لیے کہ وہ جاریہ عجمی تھی۔ اسے صحیح عقیدہ نہیں معلوم تھا مگر یہ کہہ کر یہ لوگ ایک دوسری مصیبت میں پڑگئے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ان کے ’’استویٰ‘‘ کی تاویل میں کہا تھا جب انہوں نے اس کی تفسیر ’’استولیٰ‘‘ سے کیا۔ پھر جب ان پر اعتراض ہوا کہ کون ہے وہ شخص جو اللہ سے اس کے عرش پر مغالبہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر غلبہ حاصل کرکے عرش پر غالب ہوجائے۔ یقینا یہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اسی طرح ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ بات بھی منسوب کی ہے کہ آپ اس جاریہ کے جواب سے خاموش ہوگئے تھے کیونکہ اس کا جواب ان کے نزدیک صحیح نہیں تھا۔ حالانکہ ابھی آپ نے اللہ تعالیٰ کا قول ’’امنتم من فی السمائ‘‘ پڑھا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سلف صالحین کے مذہب کو سمجھنا پھر اسے مضبوطی سے پکڑنا ضروری ہے کیونکہ انہی کا منہج اور طریقہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ یہ مسلمان ناجی ہے اس کا تعلق گمراہ فرقوں سے نہیں ہے۔ دعوت کتاب و سنت کے لیے بنیادی اصول: جب ہم مسلمانوں کو کتاب و سنت اور سلف صالحین کے منہج کی طرف دعوت دیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم وہ طریقہ اختیار کریں جو لوگوں کو کتاب و سنت کی طرف قریب کرے۔ ہم حسن اخلاق کے ساتھ ساتھ حسن اسلوب اختیار کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارا کوئی عمل یا ہماری کوئی حرکت ان کے لیے کتاب و سنت سے دوری کا سبب بنے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: