کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 119
معطلہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ دائیں ہے نہ بائیں، نہ آگے ہے نہ پیچھے، نہ عالم کے اندر ہے نہ اس کے باہر۔ اگر کسی بہت فصیح و بلیغ شخص سے یہ کہا جائے کہ جناب آپ ہم سے ’’معدوم‘‘ کا وصف بیان کیجیے تو میرے خیال میں معطلہ نے اپنے اپنے معبود کا جو وصف بیان کیا ہے اس سے زیادہ فصیح اللسان شخص بھی نہیں بیان کرپائے گا کہ معبود وہ ہے جو نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ دائیں ہے نہ بائیں، نہ آگے نہ پیچھے، … وغیرہ وغیرہ۔ اسی لیے ایک مرتبہ بعض علماء خلف علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں اکٹھے ہوئے اور اس وقت امیر وقت سے شکایت کی کہ یہ شخص علماء کی مخالفت کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے جسم ثابت کرتا ہے اس کو مخلوق سے تشبیہ دیتا ہے۔ ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ساتھ ایک مجلس منعقد کی جائے۔ بہرحال مجلس منعقد ہوئی۔ شیخ الاسلام نے ان لوگوں کے ساتھ جو آیات صفات اور احادیث صفات میں منہج سلف کے مخالف تھے۔ مناظرہ کیا امیر وقت ان مخالفین کے دعوؤں کو بغور سن رہا تھا اور صفات کے اثبات میں آیات و احادیث صحیحہ و صریحہ سے مدلل علامہ ابن تیمیہ کے دلائل کو بھی سن رہا تھا۔ چونکہ امیر ذہین اور عقلمند تھا۔ جب اس نے ان مخالفین علماء کے اوصاف باری تعالیٰ کو سنا کہ وہ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ دائیں ہے نہ بائیں، آخر تک۔ ان کے دلائل کو سننے کے بعد عقلمند امیر نے کہا: ’’ھولاء قوم أضاعوا ربہم‘‘ ’’یہ ایسی قوم ہے جنہوں نے اپنے رب کو گم کردیا۔‘‘ جو قوم یہ نہ جانتی ہو کہ اللہ کہاں ہے؟ وہ یقینا گمراہ قوم ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنا وصف یہ بیان کیا ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے۔ اس کے پاس فرشتے جاتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ} (الفاطر:10) ’’اسی کے پاس پاکیزہ کلمات جاتے ہیں اور عمل صالح کو وہ بلند کرتا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ اس موضوع پر بے شمار آیات و احادیث ہیں۔ مذہب سلف کے طلباء اور مذہب خلف کے طلباء کے درمیان فرق: آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص سلفی مدرسہ سے استفادہ کرتا ہے اور جو خلفی مدرسہ سے