کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 114
صفات کے باب میں اشاعرہ اور ماتریدیہ کا اضطراب: صفات کے باب میں اشاعرہ اور ماتریدیہ کافی اضطراب میں پڑگئے۔ بعض صفات میں کبھی وہ سلفی نظر آتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا قول: {وَہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْر}میں اللہ تعالیٰ کے لیے وہ سمع و بصر کو ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا سمع و بصر ہمارے سمع و بصر کے مانند نہیں ہے۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ آپ کی یہ بات بالکل صحیح ہے پھر آپ ’’استوی‘‘ کا معنی ’’استولیٰ‘‘ کیوں لیتے ہیں، یہاں تو آپ نے تاویل سے کام لیا۔ کاش آپ ایسا نہ کرتے اور نہ ہی تاویل کا سہارا لیتے، بلکہ آپ ان لوگوں کے ساتھ رہتے جو نہ تو سلفی ہی ہیں اور نہ خلفی تو ان لوگوں نے کہا ہم تفویض کو مانتے ہیں۔[1] [1] ۔یہاں تفویض سے مراد ’’معنی‘‘ کی تفویض ہے اور علامہ ابن حجر رحمہ اللہ کو بھی اسی مذہب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ فتح الباری میں جو شخص بھی ان کے کلام کا جائزہ لے گا وہ دیکھے گا کہ وہ بعض صفات کو سلف کی طرح ثابت کرتے ہیں اور بعض صفات میں تفویض کے قائل ہیں اور بعض میں اشاعرہ کی موافقت کرتے ہیں اور بعض مقامات پر لوگوں کے مذاہب کا ذکر کر کے خاموش ہوجاتے ہیں نہ تو کوئی رائے قائم کرتے ہیں اور نہ ہی راجح مسلک بتاتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صفات کے باب میں یہ بھی کافی پریشان نظر آتے ہیں۔ بعض عقدی مسائل میں اشاعرہ پر اچھا ردّ بھی کرتے ہیں اس کے باوجود وہ کسی مذہب پر قائم نہیں نظر آتے۔ اب اہل تفویض اور سلف و اہل سنت کے درمیان فرق یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک تفویض یہ ہے کہ صفت ثابت ہے اور اس صفت کا لغوی معنی بھی معلوم ہے لیکن اس صفت کی کیفیت نہیں معلوم ہے لہٰذا کیفیت کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں رہا معنی کی تفویض تو جو لوگ اس کے قائل ہیں ان کے نزدیک اس کے پیچھے سوائے صفت کا نام ثابت کرنے کے کوئی دوسرا فائدہ نہیں ہے… اور رہا صفات کا معنی تو وہ لوگ اس کے گہرائی میں نہیں جاتے ہیں کیونکہ یہ طریقہ سلف کے خلاف ہے اور ’’استوائ‘‘ کے بارے میں امام مالک اور ان کے استاد ربیعہ بن ابی عبد الرحمن کا قول گزر چکا ہے کہ ’’استوائ‘‘ کا لغوی معنی معلوم ہے۔ لیکن کیف مجہول ہے اس میں ہم غورو خوض نہیں کرتے بلکہ اس کے علم کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی ذات تمام عیوب سے پاک و صاف ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک تفویض کا یہی معنی ہے جیسے ذہبی اور ابن قدامہ مقدسی۔ لیکن امام ذہبی نے ’’سیر اعلام النبلا‘‘ (8/105) میں کہا ہے: ہمارا کہنا اس باب میں یہ ہے کہ اس کو اقرار کیا جائے اور اس سے گزر جایا جائے، اور اس کے معانی کو اس کے قائل کی طرف تفویض کردیا جائے۔‘‘ یہاں علامہ ذہبی نے معنی کو کیف سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب انہوں نے کتاب ’’العلو‘‘ (2/954) میں ’’الإستوائ‘‘ کے بارے میں امام مالک کے قاعدہ کو ذکر کیا تو کہا: ’’یہ امام مالک سے ثابت ہے اور ان کے استاد ربیعہ سے بھی اور یہی تمام اہل سنت کا مذہب بھی ہے کہ ’’استوائ‘‘ کی کیفیت ہمیں نہیں معلوم اور استواء /