کتاب: سلفیت (تعارف وحقیقت) - صفحہ 108
/ اسْتَوَىٰ ‘‘ ومن زعم غیر ہذا فہو معطل جہمی۔‘‘ (ذیل المسند) ’’اور جس کو قرآن و حدیث نے کہا ہو مثلاً یہودیوں کا کہنا کہ ’’بد اللہ‘‘ اور جیسے ’’السموات مطویات بیمینہ‘‘ اسی طرح قرآن و حدیث میں جو اس کے مشابہ ہو، ہم اس میں نہ تو اپنی طرف سے کچھ اضافہ کریں گے اور نہ ہی اس کی تفسیر بیان کریں گے بلکہ اتنا ہی کہیں گے جتنا قرآن و حدیث نے کہا ہے اور ہم یہ بھی کہیں گے کہ ’’ الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ ‘‘ یعنی رحمن عرش پر مستوی ہے۔ اب جو اس کے علاوہ کہتا ہے وہ معطل اور جہمی ہے۔ ٭ ابوعثمان صابونی رحمہ اللہ نے کہا: (اعتقاد اہل السنۃ واصحاب الحدیث والأئمۃ (ص:21) ’’بے شک اہل حدیث جو کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے زندوں کی حفاظت کرے اور جو وفات پاچکے ہیں ان پر رحم کرے۔ یقینا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت کی گواہی دیتے ہیں، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کے صفات کے ساتھ جانتے ہیں جن صفات کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لیے ثابت کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی گواہی دی ہے اور جن کو عادل اور ثقہ راویوں نے روایت کیا ہے نیز یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات سے تشبیہ بھی نہیں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قَالَ یَااِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَی } ’’اس نے کہا: اے ابلیس! جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ہے اسے سجدہ کرنے سے تجھے کون سی چیز مانع ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے لفظ ’’ید‘‘ ثابت کیا ہے لہٰذا یہ لوگ اس لفظ کا حقیقی معنی بیان کرتے ہیں۔ اس میں تحریف نہیں کرتے یعنی معتزلہ اور جہمیہ کی طرح اس لفظ کا معنی ’’نعمت‘‘ یا ’’قوت‘‘ کے نہیں بیان کرتے ہیں اور نہ ہی اس لفظ ’’ید‘‘ کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور نہ ہی مخلوق کی ہاتھ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ذلیل و رسوا کرکے ہلاک و برباد کردے جو صفات میں یا تو تحریف کرتے یا اس کی تشبیہ بیان کرتے ہیں یہ لوگ معتزلہ، جہمیہ اورمشتبہ ہیں، اللہ تعالیٰ کے تمام صفات جن کو کتاب و سنت نے ثابت کیا ہے جیسے سمع، بصر، عین، وجہ، علم، قوت، قدرت، عزت، عظمت، ارادہ، مشیت، قول، کلام، رضا، سخط، حیاۃ، یقظہ، فرح، ضحک وغیرہ۔ یہ اہل حدیث ان صفات کو ایسے ہی ثابت کرتے ہیں جیسے قرآن و سنت نے ثابت کیا ہے۔ نہ تو ان کو مخلوق کی صفات سے تشبیہ دیتے ہیں۔ نہ ان کی تحریف کرتے ہیں نہ ہی تاویل، وہ ان کو ظاہر پر محمول کرکے یہ کہتے ہیں کہ ان کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ کو ہے جیسا کہ قرآن میں وارد ہے: {وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم…الالباب} ’’اور علم میں راسخ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہر ایک ہمارے رب کی جانب سے ہے۔ لیکن اس سے صرف عقلمند لوگ لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔‘‘