کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 99
پر اس حدیث میں ’’ غیر مکفی ‘‘ کے الفاظ ہی وارد ہوئے ہیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک لفظ کا اپنا معنی ہے۔ فوائدِ حدیث: ٭ کھانے کے بعد اس ذکر کی مشروعیت۔ ٭ ہمیشہ کے لیے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنا۔ کسی کے ہاں افطاری کی دُعا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے ؛۔ وہ آپ کے لیے روٹی اورزیتون کاتیل لائے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((أفطرَ عندَكُمُ الصّائمونَ وأَكَلَ طعامَكُمُ الأبرارُ وصلَّت عليكم الملائكةُ)) ’’روزہ افطار کیا تمہارے ہاں روزے داروں نے، اور کھانا کھایا تمہارا نیک لوگوں نے اور دعائیں دیں تمہیں فرشتوں نے۔‘‘[1] مشکل الفاظ کے معانی : الأبرارُ: …نیک اور صالح لوگ صلَّت عليكمُ: …تمہیں دعائیں دیں ۔ شرح: أفطرَ عندَكُمُ الصّائمونَ:…یہ اللہ کی جانب سے توفیق ملنے کی دعا ہے تاکہ تمہارے پاس روزہ دار افطار کریں ۔ اور یا یہ کہ انہیں خوشخبری دی جاری رہی ہے جو کہ خیر و برکت انہیں حاصل ہوئی۔ یہاں پر یہ جملہ خبریہ خیرو برکت کی دعا کے معنی میں ہے۔ [1] صحیح سنن ابي داؤد: ۳۸۵۴۔