کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 97
((الحَمْدُ للّٰهِ ))کہے۔ اس لیے کہ سنت کھانے کے آخر میں ((الحَمْدُ للّٰهِ )) کہنا ہے۔ فوائدِ حدیث: ٭ کھانے اور پینے کے بعد ((الحَمْدُ لِلّٰهِ))ِکہنے کا استحباب۔ ٭ یہ حدیث دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کسی معمولی سبب کی بدولت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کے چھوٹے سے سبب پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ انسان کھانے سے فراغت کے بعد کہے : ((الحَمْدُ لِلّٰهِ )) کھانے اور پینے کے بعد کی دعا حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : بے شک جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستر خوان اٹھالیا جاتا، تو آپ فرماتے : ((الحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبارَكًا فِيهِ، غيرَ مَكْفِيٍّ ولا مُوَدَّعٍ ولا مُسْتَغْنًى عنْه، رَبَّنا)) [1] ’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، بہت زیادہ پاکیزہ، جس میں برکت ڈالی گئی ہے،ہم اس کے کھانے کاحق پوری طرح ادا نہ کرسکے،اور ہمیشہ کے لیے چھوڑا نہیں گیا اور نہ ہی اس سے بے پرواہی کی گئی ہے، اے ہمارے پروردگار۔‘‘ شرح:…ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ: ’’ جب آپ کھانے سے فارغ ہو جاتے‘‘( تو یہ دعا پڑھا کرتے )۔ اور ایک حدیث میں یہ دونوں جملے جمع کیے گئے ہیں کہ : ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستر خوان اٹھایا لیا جاتااور آپ کھانے سے فارغ ہوجاتے۔‘‘ ( تو یہ دعا پڑھا کرتے ۔) اور ایک روایت میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ہی نقل کیا گیا ہے آپ فرماتے ہیں : [1] البخاری: ۵۱۴۲۔