کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 90
٭ لباس پہنتے وقت اس دعا کی مشروعیت کا بیان۔ ٭ تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں ، اس سے حفاظت طلب کرتے رہنا چاہیے۔ نیا لباس پہننے والے کو دُعا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ایک سفید کرتا دیکھا تو آپ نے پوچھا : کیا یہ کرتا نیا ہے کہ دھلایا ہوا ہے؟ ‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ،بلکہ دھلایا ہوا ہے۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا)) [1] ’’تو نیا لباس پہن، اور باعزت زندگی گزاراور فوت ہو تو شہید بن کر۔‘‘ شرح: …اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے دعا وارد ہوئی ہے کہ جوکوئی اپنے مسلمان بھائی کو نیا لباس پہنے ہوئے دیکھے تو اسے کیا دعا دے؟ جب کوئی انسان کسی کودیکھے کہ اس نے نیا لباس پہنا ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں یہی الفاظ کہنے چاہئیں ۔ یہاں پر’’ نیا لباس پہن ‘‘کا یہ حکم بطور دعا کے وارد ہواہے۔اس حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام کے ساتھ محبت، بے تکلفی اور ان کی خاطر داری بھی واضح ہوتی ہے۔ فوائدِ حدیث: ٭ جب کوئی انسان اپنے کسی بھائی کو نیا لباس پہنے ہوئے دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ ان الفاظ میں اپنے بھائی کو دعا دے۔ ٭ ایسا کرنے سے مسلمان کے درمیان آپس میں پیار و محبت اور الفت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ظاہر ہے۔ ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ کرام کے ساتھ محبت، بے تکلفی اور ان کی خاطر داری۔ [1] صحیح ابن ماجہ۳۵۵۸۔