کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 48
((اللَّهمَّ بكَ أمسَيْنا، وبكَ أصبَحْنا، وبكَ نَحْيا، وبكَ نموتُ، وإليكَ المصيرُ)) [1] ’’ اے اللہ تیری ہی حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیری ہی حفاظت میں صبح کی، اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے ہیں اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اورتیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ مشکل الفاظ کے معانی : النُّشورُ: …موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا۔ المصيرُ: …ٹھکانہ اور لوٹنے کی جگہ۔ شرح:…یہ کہنا کہ : ’’جب صبح کرتے ‘‘ یعنی صبح کے وقت میں داخل ہوتے۔اس حدیث میں قول اور فعل جمع کردیے گئے ہیں ۔اس لیے کہ جب صبح کرتے تو فرماتے: (( اللَّهمَّ بكَ أصبَحْنا)) اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے تیری حفاظت کی تلاش میں صبح کی۔ یا یہ کہ ہم نے تیری نعمتوں میں ڈھکے ہوئے ؛ یا تیرے ذکر میں مشغول رہتے ہوئے، یا تیرے نام سے مدد طلب کرتے ہوئے اور تیری توفیق میں شامل حال رہتے ہوئے یا تیری قدرت اور قوت سے حرکت کرتے ہوئے اور تیرے ارادہ و توفیق سے اٹھتے ہوئے صبح کی۔ وبكَ نَحْيا وبكَ نموتُ:… یعنی تو ہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور تو ہی ہمیں مارتا ہے۔ اور یہ سلسلہ تمام حالات اور تمام اوقات میں چلتا رہتا ہے۔ ’’و إلیک‘‘ اور خاص تیری ہی طرف لوٹ کر جاناہے کسی اور کی طرف نہیں ۔ المصيرُ:…دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد مرجع۔ اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کرتے تو أمْسَيْنا کے الفاظ کو أصبَحْنا کے بجائے [1] ترمذی :۳۳۹۱۔ صحیح الترمذی:۳؍۱۴۲۔ ابو داؤد۔