کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 44
برادر محترم ! آپ کو حرص کرنی چاہیے کہ جب بھی آپ صبح وشام کریں ، یا خشکی و سمندر میں کسی بھی جگہ پر پڑاؤ ڈالیں ؛ یا کہیں پر تھوڑی دیر کے لیے سستانا چاہتے ہوں توکہہ لیجیے: ((أَعُوذُ بكَلِماتِ اللّٰهِ التّامّاتِ مِن شَرِّ ما خَلَقَ)) ’’میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘ یہ کلمات کہنے کے بعد جب تک آپ وہاں پر رہیں گے کوئی چیز آپ کونقصان نہیں دے سکے گی؛ یہاں تک کہ آپ وہاں سے کوچ کرجائیں ۔ فوائدِ حدیث : ٭ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ پناہ طلب کرنا اور اسی پر توکل کرنا۔ ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ماثوراذکار اور دعاؤوں کی فضیلت۔ نقصان سے پناہ مانگنے کی دعا حضرت ابان بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے فرمایا: میں نے سنا : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جو صبح و شام تین بار یہ کلمات کہے(اسے کوئی چیز نقصان نہیں دے سکے گی) : ((بسمِ اللّٰهِ الَّذي لا يضرُّ معَ اسمِهِ شيءٌ، في الأرضِ، ولا في السَّماءِ، وَهوَ السَّميعُ العليمُ)) [1] ’’اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کی برکت سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی زمین کی ہو یا آسمانوں کی اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔‘‘ [1] جو شخص صبح اور شام تین (۳)،تین(۳) مرتبہ پڑھے گا اس کو کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی۔ابو داؤد، :۵۰۸۸۔ الترمذی: ۳۳۸۸ ۔ احمد:۶۱؍۲۶۔ صحیح ابن ماجہ : ۲؍۲۳۲۔