کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 36
کی جہت ہر مصیبت کے لیے چادر کا کام دیتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( وَاَعُوْذُ بِعَظْمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ )) یہاں پر اغتال کے صیغہ کو متکلم کی جانب سے بطور مجہول کے ذکر فرمایا کہ میں اچانک پکڑ میں آجاؤں یا دھر لیا جاؤں ،یااغواکرلیا جاؤں ۔ اور نیچے کے ذکرسے مراد زمین میں دھنسنا ہے۔ اُغْتَالَ کا لفظ عربی زبان میں اصل میں ایسے موقع کے لیے بولا جاتا ہے کہ انسان کو اس طرح سے گھیر لیا جائے کہ وہ اس کا سوچ بھی نہ سکتا ہو۔ یا اس پر ایسی بلاء آجائے جو اس کے تصور میں بھی نہ ہو۔ فوائدِحدیث : ٭ صبح و شام کے وقت اس دعا کا مستحب ہونا ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا نہیں چھوڑا کرتے تھے ۔ ٭ انسان کی حفاظت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، لہٰذا اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ٭ سلامتی اور معافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ جو کہ اسی سے طلب کرنی چاہیے۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’ تیرے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے کہ تم وہ کلمات سنو جو میں تمہیں وصیت کررہا ہوں ۔ یا جب تم صبح کرو اور جب شام کرو تو یہ کلمات کہو : ((يا حَيُّ يا قيُّومُ برحمتِكَ أستغيثُ أصلِحْ لي شأني كلَّه ولا تكِلْني إلى نَفْسي طَرْفةَ عَينٍ )) [1] ’’اے زندہ جاوید، اے کائنات کے نگران! میں تیری ہی رحمت کے ذریعے سے [1] النسائي في الکبری: ۱۴۰۵۔ احمد: ۳؍۶۰۴۔ صحیح الجامع: ۴؍۲۰۹۔ عمل الیوم واللیلۃ، ابن السنی ؛ علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ صحیح الترغیب و الترہیب:۶۶۱۔