کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 276
بارش طلب کرنے کی دُعائیں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کچھ لوگ روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے [اور خشک سالی کی شکایت کی تو] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: ((اللَّهمَّ اسقِنا غيثًا مُغيثًا مَريئًا مُريعًا نافعًا غيرَ ضارٍّ عاجِلًا غيرَ آجلٍ)) [1] ’’اے اللہ توہمیں سیراب کر ایسی بارش سے جو مددگار،خوشگوار، سرسبز کرنے والی (اور) مفید ہو اور نقصان دہ نہ ہو، جلد ہو،نہ کہ دیر سے آنے والی۔‘‘ مشکل الفاظ کے معانی : غيثًا: …بادل ؛ بارش۔ مُغيثًا: …یہ اغاثہ سے ہے۔ مراد ہے سیراب کرنے والی۔ مَريئًا: …ہلکی ہلکی؛ فائدہ مند۔ مُريعًا: …سر سبزہ لانے والی۔ شرح :…نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ (عورتیں اور مرد ) روتے ہوئے اورخشک سالی کی شکایت کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی: ’’اے اللہ توہمیں سیراب کر ایسی بارش سے جو مددگار،خوشگوار، سرسبز کرنے والی (اور) مفید ہو اور نقصان دہ نہ ہو، جلد ہو،نہ کہ دیر سے آنے والی۔‘‘ ٭ فوائدِ حدیث: ٭ انبیاء اور صالحین سے دعا کروانے کا جواز۔ ٭ [اسی وقت آسمان پر بادل چھا گئے۔ حالانکہ اس سے پہلے بدلی کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ آسمان سارا بادلوں میں چھپ گیا۔ اور اتنی بارش ہوئی کہ کھیت و کھلیان سیراب ہوگئے،اور وادیاں پانی سے بھر گئیں ۔] [1] صحیح سنن ابي داؤد: ۱۱۶۹۔