کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 271
((اللهمَّ لا طيرَ إلا طيرُك ولا خيرَ إلا خيرُكَ ولا إلهَ غيرُكَ)) [1] ’’اے اللہ ! ہر قسم کی بدشگونی و بدفالی تیرے ہی حکم کے تابع ہے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری ہی بھلائی(یعنی تیری ہی مشیت سے) اور نہیں ہے کوئی معبود تیرے سوا۔‘‘ مشکل الفاظ کے معانی : بدشگونی:… ’’ ایک خاص قسم کی بدشگونی تھی،جوپرندہ اڑا کر لی جاتی تھی۔ اسے طیرہ کہتے تھے۔ کفارہ : …جس سے گناہ معاف ہوجائیں ۔ لا طيرَ إلا طيرُك:…’’کوئی شگون نہیں ،مگر تیری جانب سے۔‘‘اس لیے کہ پرندہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہے۔ وہ نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان۔ بلکہ نفع ونقصان دینے والا وہ ایک اللہ تعالیٰ ہے، جو ہر چیز پر قادر ہے۔ ولا خيرَ إلا خيرُكَ: …یعنی تیرے علاوہ کسی سے بھی خیر کی امید نہیں رکھی جاسکتی، اور نہ ہی کسی سے اس کے حصول کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ شرح:’’الطیرۃ‘‘ پرندوں سے فال اور بدشگونی لینے کو کہا جاتا ہے۔ اہل جاہلیت نے جس طرف جانا ہوتا تو اس طرف پرندہ اڑاتے۔ اگروہ پرندہ اسی سمت جاتا تو اسے معتبر سمجھتے۔ورنہ بد شگونی لیتے۔ اس لیے کہ ان کا اعتقاد تھا کہ پرندہ نفع یا نقصان دے سکتا ہے۔ جب وہ اس عقیدہ پر موجب عمل کرتے تویہ عمل شرک کا ارتکاب ہوتا۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ اس عمل کو شرک کہا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ جس چیز سے بدشگون لیتے اسے برائی پہنچنے میں بھی مؤثر سمجھتے تھے۔ [1] صحیح الجامع :۱۱۲۰۹۔