کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 261
جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((للّٰهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِن أَحَدِكُمْ كانَ على راحِلَتِهِ بِأَرْضِ فلاةٍ، فانْفَلَتَتْ منه وَعَلَيْها طَعامُهُ وَشَرابُهُ، فأيِسَ منها، فأتى شَجَرَةً، فاضْطَجَعَ في ظِلِّها، قدْ أَيِسَ مِن راحِلَتِهِ، فَبيْنا هو كَذلكَ إِذا هو بِها، قائِمَةً عِنْدَهُ، فأخَذَ بِخِطامِها، ثُمَّ قالَ مِن شِدَّةِ الفَرَحِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِن شِدَّةِ الفَرَحِ)) [1] ’’ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسکی توبہ پر اتنا خوش ہوتا ہے کہ جیسے جنگل میں کسی کی سواری بھاگ گئی اوراسی پر اسکے کھانے پینے کا سامان بھی تھا، وہ اس سے مایوس ہوکر کسی درخت کے نیچے آکر لیٹ گیا جبکہ وہ اپنی سواری سے مایوس ہوچکا تھا۔ وہ اسی حالت میں تھا اور اچانک اس کی وہ سواری اسکے پاس آکر کھڑی ہوگئی۔ وہ اس کی نکیل پکڑ کر جذباتِ مسرت سے مغلوب ہو کر کہتا ہے : ’’اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ۔‘‘ شدتِ مسرت سے وہ غلطی کرجاتا ہے، اس بندے کی خوشی و مسرت سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہوتا ہے۔‘‘ یہ انسان جو اپنی حالت کی وجہ سے زندگی سے مایوس ہوگیا تھا؛اس کے پاس نہ ہی کچھ کھانے کے لیے تھا اور نہ ہی پینے کے لیے۔اس وقت اس کی مایوسی حقیقی مایوسی تھی۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جس انسان کی سانسیں اکھڑ چکی ہوں ، اور اس کی زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی ہو، (اور وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے)جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : [1] صحیح مسلم :۲۷۴۷۔