کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 260
شفاء دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ نہ ہی کوئی طبیب ہے جو شفاء دے اور نہ ہی کوئی ایسی دواء ہے۔ بس یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ شِفاءً لا يُغادِرُ سَقَمًا: …ایسی شفاء جو کہ کامل ہو، اور اس کے بعد بیماری باقی نہ رہے۔ فوائدِ حدیث: ٭ جب کوئی کسی مریض کی عیادت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا دائیاں ہاتھ اس کے جسم پر پھیرے اور یہ دعا پڑھے۔ ٭ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی شفا دینے والا نہیں ۔ جو انسان زندگی سے ناامید ہوگیا ہو تو وہ کیا کہے ؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؛ (آپ میرے سینہ کے ساتھ ) ٹیک لگائے ہوئے تھے؛ آپ فرما رہے تھے: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي وارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بالرَّفِيقِ الأَعْلى )) [1] ’’اے اللہ !میری مغفرت فرما؛ اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے رفیق اعلی کے ساتھ کر دے۔‘‘ شرح :…زندگی سے مایوسی اسی وقت ہوتی ہے جب موت سامنے نظر آرہی ہو۔ اس سے پہلے انسان خواہ کتنا ہی بیمار کیوں نہ ہو، وہ زندگی سے مایوس نہیں ہوتا۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی بیماری اتنا بڑھ جاتی ہے کہ اس کے گھر والے اس کے غسل کا سامان ؛خوشبو اور کفن وغیرہ جمع کردیتے ہیں ۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ اسے عافیت اور شفا عطا فرماتے ہیں ۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بے آب و گیاہ زمین میں موت کے منہ میں پہنچ چکے ہوتے ہیں ، ان کے پاس نہ ہی کھانا ہوتا ہے اور نہ ہی پینا، مگر اللہ تعالیٰ سے نجات عطا فرماتے ہیں ۔ [1] بخاری: ۴۴۵۰۔