کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 236
إليكَ )) [1] ’’تو پاک و منزہ ہے،اور تیرے لیے ہی تعریف ہے،تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ؛ میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں ، اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ شرح :…اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کفارہ مجلس کی دعا سکھارہے ہیں ؛ خواہ کوئی بھی مجلس ہو۔جیسا کہ ام المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی نہ ہی کسی مجلس میں تشریف رکھتے، اورنہ ہی قرآن پڑھتے،اورنہ ہی نماز پڑھتے، مگر ان مجالس کو ان کلمات پر ختم کرتے۔ اگر انسان نے مجلس میں خطا کی ہوگی تویہ کلمات ان خطاؤں کا کفارہ ہو جائیں گے؛ اوراگر خیر کی باتیں کہی ہوں گی تو یہ ان کا خاتمہ بالخیر ہوجائے گا۔ اور یہ کلمات ہیں : (( سُبحانَكَ وبحمدِكَ)) ’’تو پاک ہے،اور تیرے لیے ہی تعریف ہے۔‘‘ اس جملہ میں حمد وتنزیہ دونوں کو جمع کیا گیا ہے۔ یعنی میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں ،اور تیری حمد بیان کرتا ہوں ،اور تجھ سے بخشش کا سوال کرتا ہوں ؛ اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ فوائدِ حدیث: ٭ قرآن مجید پڑھنے سے پہلے سنت یہ ہے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم پڑھ لیں ۔ ٭ اس حدیث میں مذکور دعا کی ہر مجلس کے خاتمہ پر مشروعیت ؛ خواہ وہ تلاوت قران کی مجلس ہو یا نماز کے بعد۔ ٭ یہ اذکار خیر کے لیے خیر کی مہر ہوتے ہیں اور برائی کے لیے کفارہ۔ [1] أخرجہ النسائی في السنن الکبری:۱۰۱۴۰۔