کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 224
وہ اللہ کے لیے ہو یا لوگوں کے لیے ؛ خواہ اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے ؛ یا اس کے پاس موجود لوگوں کی امانات سے۔ یہ تمام چیزیں امانت میں داخل ہیں ۔ وخواتيمَ عمَلِكَ: …’’اور تیرا آخری عمل۔‘‘ یعنی اس کاخاتمہ خیر پر ہو۔ اور تیرے اعمال کی انتہاء خیر کے ساتھ ہو۔ فوائدِ حدیث: ٭ مسافر کے لیے اس دعا کی مشروعیت ؛ اور اسکے لیے نصیحت تاکہ وہ فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔ ٭ مسافر کے لیے (بوقت الوداع) اس دعا کا استحباب۔ ٭ دینی اور دنیاوی امانت پر حفاظت کی ضرورت ؛ خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے یا لوگوں کے ساتھ معاملات سے۔ مسافر کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سفر کرنا چاہتا ہوں ، مجھے وصیت فرمادیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کے تقوی کو لازم کرلو، اور ہر اونچائی چڑھتے ہوئے تکبیر (اللّٰہُ اَکْبَرُ)کہو۔‘‘ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اللَّهمَّ اطوِ لهُ البعدَ وهوِّن عليهِ السَّفرَ)) [1] ’’ اے اللہ ! اس کی دوریوں کو سمیٹ لے،اور اس پر سفر کو آسان کردے۔‘‘ مشکل الفاظ کے معانی : عَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ:… تقوی کو لازم پکڑ، یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اور اس کی نافرمانی سے بچ کر رہو۔ [1] صحیح سنن الترمذی :3445