کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 208
حضرت معاذ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : ’’ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑکرفرمایا: ’’اے معاذ ! اللہ کی قسم میں تجھ سے محبت کرتا ہوں ؛ اللہ کی قسم میں تجھ سے محبت کرتا ہوں ۔‘‘پھر فرمایا: اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ نماز کے بعد یہ کلمات کہنے کبھی بھی نہ بھولنا : ((اللَّهُمَّ أَعِنِّي على ذِكرِكَ وشُكرِكَ وحُسنِ عبادَتِكَ)) [1] ’’یااللہ! تو میری مدد فرما اپنا ذکر کرنے اپنا شکر کرنے اور اچھے طریقے سے عبادت کرنے پر ‘‘ شرح :…یہ حدیث اس مذکورہ بالادعا کو نمازِ فرض کے بعد مشروع ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن نماز کے بعد سے کیا مراد ہے ؟ اس کا احتمال بھی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے سے قبل( یعنی تشہد کے آخر میں ) یہ دعا پڑھی جاتی ہو۔اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ دعا سلام کے بعد کے لیے ہو۔اس لیے کہ بعد کا لفظ آخر کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور آخر سے ملے ہوئے کے لیے بھی۔ نمازکے آخر میں سلام پھیرا جاتا ہے۔ سلام سے پہلے اور بعد کی دعائیں آخری شمار ہوں گی۔ اس لحاظ سے ممکن ہے کہ یہ دعا سلام کے بعد ہو یا سلام سے پہلے ہو۔ (عربی کا لفظ ’’دبر‘‘جس کا ترجمہ بعدسے کیا گیاہے؛ اس کا ترجمہ آخر بھی ہے۔) جب بعد کا لفظ بولا جائے تو اس کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ اگر یہ لفظ دعا کے ساتھ استعمال ہوا ہے تو یہ سلام سے پہلے کے لیے ہے۔ اوراگر یہ لفظ اذکار کے ساتھ استعمال ہوا ہے تو یہ سلام پھیرنے کے بعد کے لیے ہے۔کیونکہ تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے کو بھی ’’دبر الصلاۃ‘‘ [1] صحیح سنن ابی داؤد: ۱۳۶۲۔