کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 190
لیے تابع فرمان ہوتا ہوں ۔سجدہ کیا میرے چہرے نے اُس ذات کو جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس نے اس کے کان اور آنکھ کے سوراخ بنائے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعے بہت برکت والا ہے اللہ جو بہترین خالق ہے۔‘‘ رکوع اور سجدہ میں تلاوت قرآن کی ممانعت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آگاہ رہو مجھے رکوع یا سجدہ کرتے ہوئے قرات قرآن سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو اور سجود میں دعا کرنے کی کوشش کرو؛ قریب ہے کہ تمہارے لیے یہ دعا قبول کی جائے۔‘‘[1] شرح:…یہ اذکار بعض خاص احوال یعنی حالت رکوع اورسجدہ کے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’ آگاہ رہو مجھے رکوع یا سجدہ کرتے ہوئے قرات قرآن سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو اور سجود میں دعا کرنے کی کوشش کرو کہ تمہارے لیے قبول کی جائے۔‘‘ یعنی زیادہ قریب ہے کہ تمہاری دعا قبول کر لی جائے۔اس لیے کہ انسان اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتاہے۔ اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھے۔ مگر قرآنی دعا بطور دعا پڑھنے کا اختیار ہے۔ مثلاً یوں کہے: ﴿ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴾ (آل عمران:۱۴۷) ’’ اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور ہمیں [1] مسلم :۴۷۹۔