کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 177
بلند آواز سے پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ جیسا کہ امام اگر کبھی کبھار دن کی نمازوں میں جہری قرأت کرے تو ایسا کرنا مکروہ نہیں ہے۔ فوائدِ حدیث: ٭ رکوع کے بعد کھڑا ہونے کا ذکر ؛ ویسے ہی ہونا چاہیے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ ٭ (( رَبَّنا وَلَكَ الحَمْدُ حمدًا كثيرًا طيِّبًا مبارَكًا فيهِ ))کہنے کی فضیلت ٭ (( رَبَّنا وَلَكَ الحَمْدُ)) کو جہری آواز میں کہنے کا جواز؛ اور امام کے پیچھے ہونے کی صورت میں اس طرح کی دعا سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ رکوع سے اٹھتے ہوئے عاجزی و انکساری حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھا کرتے : ((اللَّهمَّ ربَّنا لَكَ الحمدُ ملءَ السَّمواتِ وملءَ الأرضِ ومِلءَ ما بينَهما، ومِلءَ ما شِئتَ من شيءٍ بعدُ أهْلَ الثَّناءِ والْمَجْدِ، أحَقُّ ما قالَ العَبْدُ، وكُلُّنا لكَ عَبْدٌ: اللَّهُمَّ لا مانِعَ لِما أعْطَيْتَ، ولا مُعْطِيَ لِما مَنَعْتَ، ولا يَنْفَعُ ذا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ )) [1] ’’اے اللہ! اے ہمارے پروردگار ! تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں ، اتنی کہ بھر جائے اس سے آسمان اور بھر جائے اس سے زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور بھر جائے ہر وہ چیز جسے تو چاہے اس کے بعد۔اے تعریف اور [1] مسلم :۴۷۷۔