کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 175
آل عمران کو نساء سے پہلے رکھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقرہ اور آل عمران کو آپس میں ملایا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر آپ کا فرمان: ’’ اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو سور البقرہ اور سور آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔‘‘ [1] الغرض آخر میں ترتیب یہ تھی کہ سورت آل عمران کو سورت نساء پر مقدم کیا جاتاتھا۔ ٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح ((سبحانَ اللَّهِ))کہتے،اور اسے بار بار دھراتے۔اس لیے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ((سبحانَ ربِّيَ العظيمِ)) کہتے اور رکوع کولمبا کرتے۔ اور ایسے ہی سجدہ میں ((سبحان ربِّي الأعلى))کہتے اور سجدہ کو لمبا کیا کرتے تھے۔‘‘ انہوں نے رکوع اور سجدہ کو لمبا کرنا تو ذکر کیا ہے، مگر تسبیح کے علاوہ کوئی اور کلمات ذکر نہیں کیے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رکوع اور سجدہ میں جتنی بار بھی تسبیح کا تکرار کیا جائے ؛ اس میں کوئی حرج نہیں ،بلکہ ایسا کرنا سنت ہے۔ ٭ واجب ہوتا ہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت بھی وہی کلمات کہنے چاہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے۔ ٭ رکوع کے بعد قومہ کے طویل ہونے کی مشروعیت پر دلیل۔ ٭ ہر حال میں اور ہر طرح کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے شکر کی ادائیگی۔ رَبَّنا وَلَكَ الحَمْدُ کہنے کی فضیلت حضرت رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ہم ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز [1] مسلم :۱۸۲۰۔