کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 124
پاکیزہ اور صاف ستھرے رہنے والوں میں ۔‘‘ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ،وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔‘‘[1] شرح:…یہ حدیث وضو اور اس کے بعد پڑھے جانے والی دعا کی فضیلت میں بیان ہوئی ہے۔ وضو کرنے کے بعد یہ مذکورہ بالا دعا پڑھنی مسنون و مستحب ہے۔ یہ دعا توحید کی اساس اور اسلام کا بنیادی قاعدہ ہے۔ اس لیے کہ اس نے یہ کام اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کیا ہے۔ اس لیے کہ جس کام کا آ پ کو حکم دیا گیا ہے یہ ایک تعبدی فعل ہے۔اس میں عقل یا علت کوکوئی دخل حاصل نہیں ۔ بلکہ مسلمان یہ کام صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کرتا ہے۔ انسان سے ہوا نکلتی ہے تو وہ وضو کرتا ہے۔ مگر اس جگہ کو نہیں دھوتا جہاں سے ہوا نکلی ہے جو کہ وضو کرنے کا سبب بنی ہے۔ بلکہ اس کے برعکس دور کے اعضاء دھوئے جاتے ہیں جن کا اصل میں ہوا کے نکلنے سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔ اس میں کوئی علت کہاں پر پائی جاتی ہے؟ بلکہ یہ کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کیا جاتا ہے۔ بس یہیں سے مسلمان وضو کرنے کے بعد اس شہادت کا اعلان کرتاہے۔اس لیے کہ یہ کام محض عبادت ہے ( جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے) اس کا کسی علت یا سبب سے کوئی تعلق نہیں ۔ گویا کہ انسان کہتا ہے :’’ اے ہمارے پروردگار! بے شک تو ہی اکیلا معبود برحق ہے۔ تونے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کی پیروی کی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تبلیغ کی،ہم نے ان کی بات سنی اور ان کی اطاعت کی۔ بس اس میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی صداقت و حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے انسان کے لے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ پھر شہادتین کے اقرار کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم کہیں : [1] مسلم: ۲۳۴۔