کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 116
انسان پر تیرا بس کس طرح چل سکتا ہے جسے ہدایت دی گئی ہو، اور شر سے بچالیا گیا ہو۔‘‘[1] فوائدِ حدیث: ٭ شیطان کے لیے اولاد آدم میں ایک حصہ مقرر ہے۔ ٭ جو کوئی لا حولَ ولا قوَّةَ إلّا باللَّهِ کہہ دے ؛ اللہ تعالیٰ اسے شیطان کے شر سے بچالیتے ہیں ، اور شیطان کو اس پر مسلط نہیں کرتے۔ ٭ اپنے ہر ایک کام میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہنا چاہیے۔ ٭ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے اور اس کا ذکر کرنے کی ضرورت۔ گھر سے نکلتے وقت کی دُعا سیّدہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نہیں نکلے، مگر آپ آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے اور یہ دعا پڑھتے : ((اللَّهمَّ إنِّي أعوذُ بِكَ أن أَضلَّ أو أُضَلَّ، أو أَزِلَّ أو أُزَلَّ، أو أَظلِمَ أو أُظلَمَ، أو أَجهَلَ أو يُجهَلَ عليَّ)) [2] ’’اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں (اس بات سے) کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کردیا جائے، میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا دیا جائے، میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں یا میرے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔‘‘ مشکل الفاظ کے معانی : أَزِلَّ: … پھسل جاؤں ، خطا کروں ۔ أَجهَلَ: …میں جہالت سے پیش آؤں ۔ یعنی بیوقوفی یا حماقت والا کام کروں ۔ [1] مشکوٰۃ:۸/۴۱۸۔ [2] صحیح سنن ابي داؤد :۵۰۹۴۔