کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 103
میں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میرے ساتھ تو اس طرح کا معاملہ ہوا ہے۔ اور میں نے اس طرح کرلیا ہے۔‘‘ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اس وقت کا دودھ سوائے اللہ کی رحمت کے اور کچھ نہ تھا۔ تو نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتا دیا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے؛ وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دودھ بھی لیا ہے اور میں نے بھی یہ دودھ پی لیا ہے تو اب مجھے اور کوئی پرواہ نہیں یعنی میں نے اللہ کی رحمت حاصل کرلی ہے تو اب مجھے کیا پرواہ بوجہ خوشی کہ لوگوں میں سے کوئی اور بھی یہ رحمت حاصل کرے یا نہ کرے۔‘‘[1] شرح:…حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو ساتھی اس حالت میں صحابہ کرام کے پاس پہنچے کہ بھوک کی وجہ سے ہماری سماعت و بصارت متاثر ہو چکی تھی۔ہم نے بطور مہمان خود کو صحابہ کرام کے سامنے پیش کیا تو کسی نے ہماری ضیافت نہیں کی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس یہ حضرات تشریف لے گئے، وہ خود بھی کسمپرسی کی حالت میں تھے؛ اسی لیے وہ ان لوگوں کی خدمت نہیں کرسکے۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے۔ راوی کا کہنا کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لاتے اور اس طرح سے سلام کرتے کہ سونے والا بیدار نہ ہو،اور بیدار انسان سن لے۔ اس فقرہ میں سلام کرنے کا ادب او ر طریقہ کارہے۔ جب انسان ایسی جگہ پر جائے جہاں کچھ لوگ سورہے ہوں ، یا کوئی آرام کررہا ہو تو پھر اس درمیانہ آواز میں سلام کرے کہ جاگنے والا سن لے، اور سونے والا بیدار نہ ہو۔ ’’اس گھونٹ کی ضرورت نہیں ‘‘ اس سے مراد دودھ کے تھوڑا ہونے کو ظاہر کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: [1] مسلم :۲۰۵۵۔