کتاب: صحیح دعائیں اور اذکار - صفحہ 267
پوچھا کہ اسے مہر کتنا دیا ہے؟ کہا: ایک گھٹلی کے برابر سونا۔[اس پر]آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((اَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ)) [1] ’’ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔‘‘ فوائدِ حدیث: ٭ جوانسان آپ پر اپنا مال پیش کرے ؛اس کے مال و اہل میں برکت کے لیے دعا کا استحباب۔ ٭ مؤمنین کے درمیان محبت اورایثار اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کے اعلی درجات میں سے ہے۔ ادائیگی قرض کے وقت قرض لینے والے کے لیے دُعا حضرت عبد اللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چالیس ہزار قرض لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا تو آپ نے وہ قرض ادا کردیا، اور فرمایا: ((بارَك اللّٰهُ لَك في أَهلِكَ ومالِكَ، إنَّما جزاءُ السَّلفِ الحمدُ والأداءُ)) [2] ’’برکت عطا فرمائے اللہ تیرے لیے تیرے اہل و عیال اور تیرے مال و دولت میں ۔قرض کا صلہ تو صرف اور صرف شکریہ اور ادائیگی ہی ہے۔‘‘ مشکل الفاظ کے معانی : إنَّما جزاءُ: …مقابل ؛ بدلہ۔ السَّلفِ: …قرض۔ الحمدُ: …تعریف، شکر۔ والأداءُ: …ادائیگی، قرض کی واپسی۔ [1] بخاری: ۱۹۴۴۔ [2] صحیح سنن ابن ماجہ :۴۶۸۳۔