کتاب: سفر آخرت - صفحہ 256
قبر پرستی کے مرض میں مبتلا عوام و خواص اس توحید الوہیت میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی اقسام وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لیے بھی کرتے ہیں ۔
۳۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں ، مثلاً جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے یا دور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے۔ یہ یا اس قسم کی اور صفات الٰہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ کے سوا کسی نبی، ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں ۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ واضح شرک ہو گا۔
زیارت قبور کے وقت توحید کی یہ قسمیں بھی مستحضر رہنی چاہئیں تاکہ کوئی مسلمان کسی بھی قبر والے کے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات مخصوصہ میں سے کوئی صفت تسلیم کرے اور نہ اس کے لیے کسی قسم کی عبادت بجا لائے کیونکہ کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کی صفت کا حامل سمجھنا یا اس کے لیے عبادت کی کوئی قسم اختیار کرنا، اس بزرگ اور ولی کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا ہے اسی کا نام شرک ہے جو اللہ تعالیٰ آخرت میں معاف نہیں فرمائے گا۔ کیونکہ مشرک پر جنت حرام ہے۔[1]
٭٭٭
[1] قبر پرستی، حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ