کتاب: سفر آخرت - صفحہ 254
نے چاہا تو یقینا ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں ، ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کے طالب ہیں ۔‘‘ اس دعا میں مُردوں سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے اور اپنے لیے دعا کی گئی ہے۔ یہ دعا ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلائی ہے اور جس طرح سکھلائی ہے، اسی طرح پڑھنا ہمارے لیے ضروری ہے، مُردے ہماری یہ دعا سنتے ہیں یا نہیں سنتے؟ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ، نہ ان کو سنانا مقصود ہی ہے، مقصد تو صرف دعا ہے۔ اس مسنون دعا یا ان کی مغفرت اور عذاب سے نجات کے لیے اپنی زبان میں دعا کرنے کے علاوہ کسی اور چیز کا ثبوت نہیں ، جس طرح کہ لوگ فاتحہ پڑھ کر یا کوئی اور قرآنی سورت پڑھ کر مردوں کو بخشتے ہیں یا ان کی مغفرت کی دعا کے لیے اس طریقے کو ضروری سمجھتے ہیں ۔ یہ طریقہ غلط ہے۔ مُردوں کے لیے فاتحہ خوانی یا قرآنی خوانی کا کوئی ثبوت نہیں ہے نہ اس طریقے سے ان کے حق میں مغفرت کی دعا ہی ہوتی ہے کیونکہ سورۂ فاتحہ یا قرآن کریم کی کسی اور سورت میں مُردوں کی مغفرت کے لیے کوئی دعائیہ الفاظ ہی نہیں ہیں ۔ دعائیہ الفاظ تو اس دعا میں ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبرستان والوں کے لیے سکھلائی ہے جس کے الفاظ ابھی نقل کیے گئے ہیں ۔ اس لیے صرف یہی دعا قبرستان میں جا کر کرنی چاہیے، یہ مسنون دعا یاد نہ ہو تو اپنی زبان میں مُردوں کی مغفرت کے لیے دعا کرے۔ ہر جمعہ کو والدین کی قبر کی زیارت کرنے کی فضیلت میں ایک روایت آتی ہے لیکن یہ روایت موضوع ہے۔[1] جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ اسی طرح شب براء ت، محرم اور دیگر خصوصی مواقع پر قبرستان جانا کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ۔ قبرستان جب چاہیں جائیں خصوصی موقعوں پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے کسی عزیز کی خاص قبر پر ہاتھ اٹھا کر بھی مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے۔
[1] الاحادیث الضعیفۃ: ۱؍۴۹۔ مشکوۃ بہ تحقیق البانی: ۱؍۵۵۴، باب زیارۃ القبور۔