کتاب: سفر آخرت - صفحہ 253
یہ صورت مشرکانہ تو نہیں البتہ غیر مسنون طریقۂ دعا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کبھی دعا نہیں مانگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس طرح دعا نہیں کی۔ کسی صحیح حدیث سے اس طرح دعا کرنے کا ثبوت نہیں ملتا۔اس طرح کے اطوار سے شرک کے دروازے کھلتے ہیں ۔
بنا بریں دعا کے لیے کسی قبر پر جانے کی ضرورت نہیں کسی کے جاہ و حرمت کا واسطہ دینے کی ضرورت نہیں ۔ براہ راست بغیر کسی واسطے اور وسیلے کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے البتہ اپنے نیک اعمال کے واسطے اور وسیلے سے دعا کرنی جائز ہے مثلاً یہ کہے یا اللہ میں نے فلاں کام محض تیری رضا کے لیے کیا تھا، اس کے واسطے اور وسیلے سے میری دعا قبول فرما لے جس طرح کہ ایک حدیث میں تین اشخاص کا واقعہ آتا ہے جو ایک غار میں پھنس گئے تھے اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے نیک عمل کے واسطے سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے غار کا منہ کھول دیا۔ قرآن کریم کی آیت ﴿وَ ابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ﴾ (المائدۃ: ۳۵) میں یہی تقویٰ اور نیک اعمال کا وسیلہ مراد ہے۔
اسی طرح کسی زندہ نیک بزرگ سے دعا کرانا بھی جائز ہے جس طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قحط سالی کے موقع پر عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کرائی تھی۔
اسی طرح قبرستان جانا مسنون عمل ہے لیکن مخصوص قبروں پر جانے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ وہ قبرستان کے حکم میں نہیں ہیں ۔
قبرستان میں جانے کا مقصد موت کی یاددہانی اور دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ مستحضر کرنا ہے۔
قبرستان میں جا کر یہ مسنون دعا پڑھی جائے:
((اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ اِنَّا اِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ، نَسْاَلُ اللّٰہَ لَنَا وَ لَکُمُ الْعَافِیَۃَ)) [1]
’’اے خاموش گھروں کے مومن و مسلمان ساکنو! تم پر سلامتی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ
[1] رواہ مسلم، مشکوۃ، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور۔