کتاب: سفر آخرت - صفحہ 250
’’تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کا (تقرّبی) سفر نہ کیا جائے۔‘‘
اس حدیث کے الفاظ خبر کے ہیں لیکن مقصود اس سے نہی ہے کیونکہ اصول ہے کہ خبر کو خبر پر محمول کرنا متعذر ہو تو اسے نہی پر محمول کیا جاتا ہے۔ جس طرح ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں :
((لَا یَبِیْعُ حَاضِرٌ لِّبَادٍ)) [1]
’’کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے۔‘‘
اس میں انداز خبر کا ہے لیکن مراد نہی ہے۔
﴿لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَا﴾ (البقرۃ: ۲۳۳)
’’کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔‘‘
یہ بھی صیغہ خبر کا ہے لیکن معنی نہی کا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث سے اس کی مزید متعدد نظائر پیش کی جا سکتی ہیں ۔ علاوہ ازیں اسے اگر لَا تَشَدَّ الرِّحَالَ پڑھ لیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے اور یہ صیغہ نہی ہے، اس صورت میں تو نہی کے معنی میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذکورہ تین مساجد (مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ) کے علاوہ کسی بھی جگہ کا سفر ہی جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ مطلب لیا جائے گا تو پھر تجارت، جہاد، طلب علم، کسی رشتے دار سے ملاقات یا کسی نیک آدمی کی زیارت وغیرہ کسی بھی کام کے لیے سفر کرنا جائز نہیں ہو گا، جبکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ تمام علماء، فقہاء اور محدثین کا اتفاق ہے کہ مذکورہ مقاصد کے لیے سفر جائز ہے کیونکہ مذکورہ مقاصد کے لیے سفر میں کسی مخصوص جگہ کا تقدس پیش نظر نہیں ہوتا اور حدیث زیر بحث کا اصل مقصد یہ ہے کہ کسی بھی جگہ کو مقدس و متبرک سمجھ کر قرب الٰہی کے حصول کے لیے سفر نہ کیا جائے۔ کیونکہ اس مقصد کے لیے تقربی سفر صرف تین مسجدوں ہی کے لیے جائز ہے مثلاً کوہ طور ہے کوئی شخص اس مقصد کے لیے وہاں جائے کہ یہ پہاڑ اس لحاظ سے مقدس ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ جناب موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا تھا، وہاں جانے سے مجھے بھی خصوصی اجر اور قرب الٰہی حاصل ہو گا۔
[1] صحیح بخاری۔ صحیح مسلم، کتاب البیوع۔