کتاب: سفر آخرت - صفحہ 249
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ((کُلُّ حَدِیْثٍ رُوِیَ فِیْ زِیَارَۃِ قَبْرِہٖ فَاِنَّہٗ ضَعِیْفٌ بَلْ کِذْبٌ مَوْضُوْعٌ)) [1] ’’زیارت قبر مبارک کے متعلق جتنی بھی احادیث ہیں ، وہ صرف ضعیف ہی نہیں بلکہ موضوع اور من گھڑت ہیں ۔‘‘ اس کی دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا حکم ہے سلام تو تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کے الفاظ میں پڑھ لیا جاتا ہے اور درود شریف بھی التحیات کے بعد پڑھ لیا جاتا ہے علاوہ ازیں دیگر اوقات میں بھی درود پڑھا جاتا ہے اور اس کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو درود مجھ تک فرشتوں کے ذریعے سے پہنچایا جاتا ہے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اذان کے بعد جو شخص بھی یہ دعا مانگے گا: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ہٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا الَّذِيْ وَعَدْتَہُ)) اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔ اس دعا کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں دعائے خیر ہو جاتی ہے۔ گویا چوبیس گھنٹوں یا شب و روز میں کم از کم پانچ مرتبہ دعائے خیر اور متعدد مرتبہ صلوٰۃ و سلام ہر مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پڑھتا ہے۔ اس لیے قبر مبارک پر جانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، کیونکہ قبر پر جا کر بھی یہی کام کرنا مسنون ہے جو ایک مسلمان دن اور رات میں متعدد مرتبہ کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ نے، جو شریعت کے صحیح رمز شناس تھے۔ اسی وجہ سے زیارت قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو معمول بنانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اس کا معنی قطعاً یہ نہیں کہ وہ قبر نبوی کا احترام نہیں کرتے تھے یا ان کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔تیسری وجہ یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ)) (الحدیث)
[1] قاعدۃ عظیمۃ، ص: ۸۵۔