کتاب: سفر آخرت - صفحہ 248
’’میری قبر کو عید (میلہ) نہ بنانا، تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود پڑھو، تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے: ((لَا تَتَّخِذُوْا قَبْرِیْ وَثَنًا یُعْبَدُ، اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی قَوْمٍ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِ ہِمْ مَّسَاجِدَ)) [1] ’’میری قبر کو تم بت مت بنا لینا کہ اس کی پوجا شروع کر دی جائے۔ (یاد رکھنا) اس قوم پر اللہ کا سخت غضب نازل ہوا جس نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ (عبادت گاہ) بنا لیا۔‘‘ ان دونوں حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو سجدہ گاہ کے طور پر زیارت گاہ نہ بنایا جائے کیونکہ یہی چیز کسی بھی قبر کے عید (میلہ) یا عبادت گاہ بننے کا ذریعہ بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ مشیت الٰہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کسی کھلی جگہ پر بننے کی بجائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں بنائی گئی تاکہ لوگوں کی وہاں آمد و رفت زیادہ نہ ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز پڑھنے کے لیے آیا کرتے تھے، اسی طرح دوسرے شہروں سے بھی لوگ خلفائے اربعہ (سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم ) سے ملنے اور دربار خلافت میں بہت سے مسائل کے حل کے لیے حاضری دیا کرتے تھے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا دربارِ خلافت، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھا لیکن لوگ زیارت قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں نہیں جاتے تھے۔ اس مسئلے کو جذبات سے ہٹ کر کتاب و سنت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی اور احترام کے جو پاکیزہ جذبات ان کے ہاں تھے، بہر حال ہماری وہ کیفیت نہیں ۔
[1] حوالہ مذکور بتحقیق جدید، دار العاصمہ، ریاض ۱۴۱۱ھ۔