کتاب: سفر آخرت - صفحہ 239
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریح: ((عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ رضی اللّٰه عنہ قَالَ نَذَرَ رَجُلٌ اَنْ یَّنْحَرَ اِبِلًا بِبَوَانَۃَ فَسَاَلَ النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَقَالَ ہَلْ کَانَ فِیْہَا وَثَنٌ مِنْ اَوْثَانِ الْجَاہِلِیَّۃِ یِعْبَدُ؟ قَالُوْا لَا۔ قَالَ فَہَلْ کَانَ عِیْدٌ مِنْ اَعْیَادِہِمْ؟ قَالُوْا لَا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَوْفِ بِنَذْرِکَ فَاِنَّہٗ لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ)) [1] ’’سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بوانہ کے ٹیلے پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں حاضر ہو کر اس کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفساراً دریافت کیا کہ کیا وہاں کبھی کسی بت کی پوجا ہوتی تھی؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نفی میں جواب عرض کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ کیا وہاں کوئی میلہ لگتا ہے؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا نہیں (وہاں کوئی میلہ نہیں لگتا)۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنی نذر پوری کرو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نذر پوری کرنا جائز نہیں۔‘‘ درسِ عبرت: ((عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ وَ دَخَلَ النَّارَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ۔ قَالُوْا وَ کَیْفَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ مَرَّ رَجُلَانِ عَلٰی قَوْمٍ لَّہُمْ صَنَمٌ لَا یُجَاوِزُہٗ اَحَدٌ حَتّٰی یُقَرِّبَ لَہٗ شَیْئًا، فَقَالُوْا لِاَحَدِہِمَا قَرِّبْ! قَالَ لَیْسَ عِنْدِیْ شَیْئٌ اُقَرِّبُ۔ قَالُوْا لَہٗ قَرِّبْ وَ لَوْ ذُبَابًا۔ فَقَرَّبَ
[1] عون المعبود شرح ابی داود، باب ما یومر بہ من وفاء النذر: ۳؍۲۳۰۱ و قال الشیخ عبدالرحمن بن حسن آل الشیخ اسنادہ علی شرطہما، فتح المجید، ص: ۱۲۷۔