کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 379
کرتاہوں،اور میں رات کو قیام بھی کرتاہوں اور سوتابھی ہوں، اور میں نے بہت سی شادیاں بھی کی ہوئی ہیں،پس جوشخص میرے طریقہ سے اعراض کریگا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
حضرات! اس حدیث پر اور اس سے حاصل ہونے پر قواعد پر ایک تفصیلی بحث ہوسکتی ہےلیکن وقت اس کا متحمل نہیں ہے،البتہ ایک دوٹوک بات حاصل ہورہی ہے کہ جوبھی انسان منہجِ عبادت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے تجاوز اختیار کرے گا وہ منہجِ اسلام سے خارج ہوکر کسی دوسرے منہج کی طرف منتقل ہوجائے گا،خواہ اس کی نیت کتنی ہی نیک ہواور کتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کیلئے کوشاں ہو،اللہ تعالیٰ تویہ دیکھتا ہے کہ بندہ نے اپنے عمل میں میرے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی یانہیں۔
اس کے خوش ہونے اور راضی ہونے کی بنیاد یہی ہے:
[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ][1]
ترجمہ:کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والامہربان ہے۔
ہم نے سیرتِ طیبہ سے کچھ شواہد پیش کئے ہیں ،ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہرخطبہ میںیہ قواعد بیان فرمایا کرتے تھے:
أما بعد: فان أصدق الحدیث کتاب ﷲ ، وأحسن الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، وشر الأمور محد ثا تھا ، وکل محد ثۃ بد عۃ ، وکل بدعۃ ضلا لۃ ، وکل ضلالۃ فی
[1] آل عمران:۳۱