کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 378
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچ گئے ،اور ام المؤمنین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کی بابت استفسار کیا،حدیث کے الفاظ ہیں:(فلما أخبروا کأنھم تقالوھا)یعنی:جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کی خبر دی گئی تو انہوں نے اسے تھوڑا سمجھا، بلکہ ایک شخص نے یہاں تک کہہ دیا:(وأین نحن من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؛إن اللہ قد غفر لہ ما تقدم من ذنبہ وما تأخر)یعنی: بھلاہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ؟ آپ کیلئے تو قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی بشارتیں موجود ہیں۔(لہذا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عبادت کرنی چاہئے۔)چنانچہ ایک شخص نے کہا: (أماأنا فأقوم ولا أنام ) یعنی:میں آج کے بعد رات بھر کا قیام کرونگا اور بالکل نہ سؤونگا۔دوسرے نے کہا:(أما أنا فأصوم ولاأفطر)یعنی: میں آج کے بعد ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی ناغہ نہیں کرونگا۔تیسرے نےکہا:(أما أنا فلا أتزوج النساء )یعنی:میں کبھی شادی نہ کرونگا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تینوں افراد کی باتیں بتائی گئیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور غصہ سے اس قدرسرخ ہوگیا کہ جیسے انار نچوڑ دیا گیا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طلب فرمالیا اور ان کی اصلاح فرمائی، بلکہ بعض احادیث میں یوں وارد ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پرجلوہ گرہوئے اور لوگوں کے بڑے اجتماع میں فرمایا: (ما بال أقوام یقولون کذا أما إنی أعلمکم باللہ وأتقاکم للہ ،أما إنی لأصوم وأفطر ،وأقوم وأنام ،وأتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتی فلیس منی) یعنی:لوگوں کو کیا ہوگیا کہ عبادت کے تعلق سے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں، خبردار! اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا سب سے بڑا عالم میں ہوں اور اس کائنات کا سب سے بڑا متقی بھی میں ہوں، خبردار! میرا طریقہ یہ ہے کہ میں روزے بھی رکھتاہوں اور ناغے بھی