کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 377
معلوم کرکے اسی طرح روزے رکھنے کی کوشش کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کاسوال سن کر شدید غصے میں آگئے، قریب ہی امیرالمؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ بھانپ گئے،انہوں نے (رضینا باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسولا)کہنا شروع کردیا،یعنی:ہم راضی ہیں اللہ تعالیٰ کو رب مان کر،اسلام کو اپنا دین مان کر اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول مان کر۔
حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاغصہ ٹھنڈا پڑگیا۔
یہ حدیث ایک بہت بڑے قاعدے پر مشتمل ہےاور وہ یہ ہے کہ امت کا کوئی فرد ایسا عمل بھی اپنانے کی کوشش نہ کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے،یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غضبناک ہونے کاسبب تھا؛کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزوں میں وصال فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات افطار سے افطار تک یا سحری سے سحری تک روزہ رکھا کرتے تھے،اور فرمایا کرتے تھے:میں اس معاملہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں،مجھے میرا رب رات کو کھلاتا اور پلاتاہے۔[1]
(۷) توحیدِ طریقِ عبادت کے منہج کےاثبات کیلئے سب سے اہم دلیل ان تین افراد کا واقعہ ہے،جن کے قلوب خشیت الٰہی سے معمور تھے اور یہ سوچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے طرف آتے ہیں کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت معلوم کی جائے؛کیونکہ دن بھر کے سارے اعمال وہ خود دیکھا کرتے تھے اور اپنایاکرتے تھے،مگر رات کو چونکہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف فرماہوتے تو وہ عمل مخفی تھا،لہذا معلوم کرنے کیلئے
[1] صحیح مسلم