کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 376
دوسراقاعدہ یہ سامنے آتا ہے کہ دین اسلام کس قدر منہجِ اعتدال پر قائم ہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات اور حاجات کے درمیان ایک اعتدال قائم فرمایا، اور یہ درس دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے اہل ،اپنے نفس اور اپنی آنکھ کے حقوق فراموش نہ کردیئے جائیں۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
(إن لربک علیک حقا، ولزوجک علیک حقا ،فأعط کل ذی حق حقہ)[1]
یعنی:بے شک تمہارے رب کا تم پر حق ہے،اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، پس ہر حق والے کو اس کاحق دے دو۔
تیسرا عظیم الشان قاعدہ یہ بھی سامنے آتا ہےکہ بندے کی ایسی کثیر عبادت نا قابل قبول ہے جو اسے کمزور کرکے جہاد سے فرار پر مجبور کردے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داؤد علیہ السلام کے روزوں کا ذکر کیا اور فرمایا :(ولا یفر إذا لاقیٰ)یعنی:جب وہ دشمن سے ملتے تومیدان سے قطعاً نہ بھاگتے،گویا اتنی مقدار کے روزے انہیں کمزور کرکے جہاد سےدوری پر مجبور نہ کرتے۔
جہاد دینِ اسلام کی چوٹی ہے ،لہذا اتنی مقدار کی عبادات (روزے اور قیام وغیرہ)جو بندے کے اعضاء وقویٰ کو مار دے یا کمزور کردے کہ وہ جہاد کے قابل ہی نہ رہے،ناجائز ہے۔
(۶) صحیح مسلم میں ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے روزوں کی بابت سوال کیا،اس کامقصد یہ تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا
[1] صحیح بخاری