کتاب: صدارتی خطبات(رحمانی) - صفحہ 375
النھار وتقوم اللیل ؟)یعنی:مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم روزانہ روزہ رکھتے ہواور پوری پوری رات کا قیام کرتے ہو؟عرض کیا:جی ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو اس عمل سے روک دیا اور فرمایا: (صم من کل شھر ثلاثۃ أیام) یعنی:پورامہینہ روزے رکھنے کی بجائے ہر مہینے تین روزے رکھا کرو۔(ایام بیض کے روزے مراد ہیں) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:مجھے اس سے زیادہ روزوں کی طاقت ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ روزوں کی اجازت دے دی،ان کے مزید طلب کرنے پر سات اور پھر نو کی اجازت دی،مزید مطالبے پر ارشاد فرمایا:(صم صیام أخی داؤد کان یصوم یوما ویفطر یوما ولا یفر إذا لاقیٰ)یعنی:تم میرے بھائی داؤد علیہ السلام والے روزے رکھاکرو،وہ ایک دن روزہ رکھتے اور اگلے دن ناغہ کیا کرتے تھے،اور جب ان کی دشمن سے ملاقات ہوتی تو میدان چھوڑ کر بالکل نہ بھاگتے۔[1] یہ حدیث بہت سے عظیم الشان قواعد پر مشتمل ہے: پہلا قاعدہ یہ ہے کہ ذاتی پسند یاخواہش خواہ بظاہر کتنی ہی عمدہ اور عالیشان محسوس ہو،مگر وہ باطل ہے جب تک امام الانبیاء محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تصدیق نہ فرمادیں،چنانچہ عبداللہ بن عمروکا عمل یہ تھا کہ وہ مسلسل روزے رکھتے اور مسلسل پوری رات کا قیام کرتے،یہ دونوں عمل بظاہر بہت ہی عظیم الشان ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رد فرمادیئے اور ان کی اصلاح فرمادی،گویا نیکی بھی اس وقت تک نیکی شمار نہیں ہوتی جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو۔
[1] بخاری،الرقم:۲۱۰۹